امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں بے قابو ، ٹرمپ حکومت کا بڑا فیصلہ

امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں بے قابو ، ٹرمپ حکومت کا بڑا فیصلہ

امریکی حکومت نے ملک میں پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے ریفائنریوں کو ایندھن کی پیداوار بڑھانے میں مدد دینے کے اقدامات کا اعلان کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکا میں پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے حکومت کی پریشانی بڑھا دی ہے، عام پٹرول کی اوسط قیمت 4.06 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر چکی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد زیادہ ہے،  ایسے میں ٹرمپ حکومت نے قیمتوں پر قابو پانے کے لیے ریفائنریوں سے ایندھن کی پیداوار بڑھانے کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی حکومت آئندہ چند روز میں ایسے اقدامات کا اعلان کرے گی جن کے ذریعے ریفائنریوں کو پٹرول اور دیگر ایندھن کی پیداوار بڑھانے میں مدد دی جائے گی،  حکومت کو امید ہے کہ مارکیٹ میں ایندھن کی دستیابی بڑھنے سے قیمتوں کو نیچے لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

ریفائنریوں کی پیداوار مزید بڑھانے کی تیاری

امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے ٹیکساس کے شہر مڈلینڈ میں ریفائنری مالکان اور متعلقہ حکام سے ملاقات کے بعد حکومتی منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکی ریفائنریاں پہلے ہی ریکارڈ سطح پر کام کر رہی ہیں، تاہم حکومت پیداوار میں مزید اضافے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

کرس رائٹ کے مطابق امریکا اور دیگر ممالک میں ریفائنری پیداوار بڑھانا پٹرول کی قیمتیں کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، اس اقدام کا براہ راست تعلق امریکی صارفین سے ہے، کیونکہ پیٹرول کی مہنگائی سے روزمرہ سفر اور دیگر اخراجات بھی متاثر ہوتے ہیں۔

پیٹرول کی قیمتیں ٹرمپ حکومت کیلئے چیلنج

امریکا میں پیٹرول کی قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک ڈالر سے زیادہ بڑھ چکی ہے،  یہی وجہ ہے کہ مہنگا ایندھن ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی مسئلہ بھی بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی معمولی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی،  ایسے میں پٹرول کی قیمتیں امریکی ووٹرز کے لیے اہم معاملہ بن سکتی ہیں۔

ایران تنازع اور عالمی تیل مارکیٹ پر نظر

دوسری جانب کرس رائٹ نے ایران کے حوالے سے امریکی حکومت کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر دباؤ کے معاملے میں طویل مدتی حکمت عملی پر عمل کر رہے ہٓیں ،  اقتصادی پابندیوں اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد رکاوٹوں کے اثرات وقت کے ساتھ بڑھ سکتے ہیں ،  ہفتہ اور اتوار دونوں دن 30، 30 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، تاہم ان کے مطابق ایران اس وقت تیل برآمد نہیں کر پا رہا۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی اہم

امریکی وزیر توانائی کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کو محفوظ رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی تیل مارکیٹ کے لیے آنے والا وقت اہم ہے,  ایک طرف امریکا پٹرول کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے اپنی ریفائنریوں کی پیداوار بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، تو دوسری طرف ایران اور آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

اگر ریفائنریوں کی پیداوار میں مزید اضافہ ہوتا ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں بڑی رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی تو امریکا میں پیٹرول کی قیمتوں پر دباؤ کم ہوسکتا ہے تاہم مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، اس لیے آنے والے دنوں میں پٹرول کی قیمتوں کا رخ اہم رہے گا۔

editor

Related Articles