آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم ،ایران کے منجمند اثاثے جاری کر دئیے گئے ، عباس عراقچی

آبنائے ہرمز  کی ناکہ بندی ختم ،ایران کے منجمند اثاثے جاری  کر دئیے گئے ، عباس عراقچی

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی انتھک ثالثی کے نتیجے میں امریکا کے ساتھ مذاکرات میں اہم پیش رفت حاصل ہوئی ہے  جس نے لبنان میں جاری جنگ کے خاتمے کی امیدوں کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر پاکستان کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور قطر نے مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے اور فریقین کے درمیان اعتماد سازی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق سفارتی رابطوں اور مسلسل کوششوں کے باعث

لبنان میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت ممکن ہوئی ہے۔

  یہ بھی پڑھیں :سوئٹرز لینڈ میں ایران امریکہ مذاکرات کے بعد پاکستان اورقطر کا مشترکہ اعلامیہ جاری

ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ مذاکرات کے نتیجے میں ایران کی تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات پر عائد پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں عائد رکاوٹیں بھی ہٹا دی گئی ہیں  جس سے عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت کو استحکام ملنے کی توقع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے منجمد اثاثوں کا ایک حصہ بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس سے ملک میں بڑے پیمانے پر تعمیرِ نو اور ترقیاتی منصوبوں کے آغاز کی راہ ہموار ہوگی۔ ان کے بقول اس پیش رفت سے ایرانی معیشت کو سہارا ملے گا اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

 

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اگرچہ مذاکرات میں متعدد اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، تاہم اصل امتحان لبنان میں جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے قائم کیے گئے ’’ڈی کنفلیکشن سیل‘‘ کا مؤثر کردار ہوگا۔ یہ سیل زمینی صورتحال کی نگرانی، جنگ بندی پر عملدرآمد اور مختلف فریقین کے درمیان رابطہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ سفارتی عمل کے تسلسل اور طے شدہ اقدامات پر عملدرآمد سے خطے میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا اور طویل عرصے سے جاری تنازعات کے حل کی راہ ہموار ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فریقین کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔

editor

Related Articles