قحط کے دوران 14 سالہ لڑکے نے کباڑ سے بجلی پیدا کرکے سب کو حیران کردیا

قحط کے دوران 14 سالہ لڑکے نے کباڑ سے بجلی پیدا کرکے سب کو حیران کردیا

ملاوی کے ایک 14 سالہ لڑکے نے ایسے وقت میں کباڑ سے ونڈ مل تیار کرلی جب اس کا خاندان شدید قحط کے باعث بھوک کا شکار تھا اور وہ خود بھی تعلیم جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا تھا۔

یہ کہانی ولیم کام کوامبا کی ہے، جو 2001 میں ملاوی میں آنے والے شدید قحط کے دوران اسکول کی فیس ادا نہ ہونے کے باعث تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہوگیا تھا۔ تاہم ولیم نے سیکھنے کا سلسلہ نہیں روکا۔ وہ ایک چھوٹی سی لائبریری جاتا اور وہاں موجود کتابوں کا مطالعہ کرتا۔ اسی دوران اسے ’یوزنگ انرجی‘ نامی سائنس کی ایک کتاب ملی، جس میں ونڈ ملز اور توانائی پیدا کرنے کے طریقوں کی وضاحت موجود تھی۔

یہ بھی پڑھیں:چور کی قسمت خراب، گھر میں داخل ہوا مگر چوری سے پہلے ہی سو گیا

ولیم کی انگریزی زیادہ اچھی نہیں تھی، اس لیے اس نے کتاب کے الفاظ کے بجائے تصاویر اور خاکوں سے ونڈ مل کے کام کرنے کا طریقہ سمجھنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد اس نے سائیکل کے پرزوں، ٹریکٹر کے پرزہ جات، لکڑی اور درختوں کی شاخوں سمیت دستیاب کباڑ سے ایک چھوٹی ونڈ مل تیار کرلی۔ یہ ونڈ مل اس کے گھر کے لیے بجلی پیدا کرنے لگی۔

بعدازاں ولیم نے ایک اور نظام تیار کیا جس کی مدد سے پانی کو کھیتوں تک پہنچا کر آبپاشی میں استعمال کیا جاسکتا تھا۔ایک نوجوان کا اپنے خاندان کو بھوک اور مشکلات سے نکالنے کے لیے شروع کیا گیا یہ تجربہ بعد میں دنیا بھر کے لوگوں کے لیے متاثر کن مثال بن گیا۔

یہ بھی پڑھیں:اتنا بڑا بیگ آخر کس کام کا؟ شنیل کا عجیب و غریب فیشن تجربہ

ولیم نے بعد میں دوبارہ تعلیم حاصل کی اور امریکا کے ڈارٹ ماؤتھ کالج سے گریجویشن مکمل کی۔ اس کی زندگی کی کہانی ’’دی بوائے ہو ہارنسڈ دی ونڈ‘‘ کے نام سے کتاب اور نیٹ فلکس فلم کی صورت میں بھی دنیا کے سامنے آئی۔

ولیم کے پاس وسائل نہ ہونے کے برابر تھے، لیکن اس نے جو کچھ دستیاب تھا اسی سے کام لیا اور ایک ایسا منصوبہ بنا ڈالا جس نے نہ صرف اس کے خاندان کی زندگی بدلی بلکہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو یہ پیغام دیا کہ محدود وسائل ہمیشہ بڑے خوابوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتے۔

editor

Related Articles