آٹے کی قیمت میں مسلسل اضافے نے شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں، سوات میں20 کلو آٹے کا تھیلا 3 ہزار 300 روپے جبکہ 50 کلو آٹے کی بوری 8 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔
مقامی سطح پر آٹے کی قیمت میں اضافے کے باعث شہریوں کو روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے،شہریوں کا کہنا ہے کہ آٹا پہلے ہی گھریلو بجٹ کا اہم حصہ ہے، ایسے میں قیمتوں میں مسلسل اضافہ عام آدمی پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہا ہے۔
گندم کی سپلائی بحال نہ ہوسکی
عوامی حلقوں کے مطابق پنجاب سے سوات کو گندم کی سپلائی تاحال بحال نہیں ہوسکی، جس کے باعث مقامی مارکیٹ میں گندم اور آٹے کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہےشہریوں کا کہنا ہے کہ گندم کی فراہمی میں رکاوٹ برقرار رہی تو آٹے کی قیمت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
حکومت سے مطالبہ
مقامی شہریوں اور عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سوات میں گندم اور آٹے کی سپلائی فوری بحال کی جائے اور قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں،عوامی حلقوں کے مطابق موجودہ صورتحال میں محض اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کو بنیادی غذائی ضرورت مناسب قیمت پر دستیاب ہوسکے۔
سیاسی اختلافات پر بھی تشویش
شہریوں نے گندم کی فراہمی کے معاملے کو سیاسی اختلافات سے جوڑنے کی مبینہ پالیسی پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات کا اثر عام شہریوں کی بنیادی ضروریات پر نہیں پڑنا چاہیے۔
شہریوں کے مطابق سوات کے عوام پہلے ہی مہنگائی اور دیگر معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے آٹے کی قیمت میں مزید اضافہ ان کے لیے مشکلات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے گندم کی فراہمی بحال، آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول اور شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جائے۔