ایزی پیسہ صارفین ہوشیار! ایک غلطی سے اکاؤنٹ اور رقم خطرے میں پڑ سکتی ہے

ایزی پیسہ صارفین ہوشیار! ایک غلطی سے اکاؤنٹ اور رقم خطرے میں پڑ سکتی ہے

ایزی پیسہ اکاؤنٹ استعمال کرنے والے لاکھوں صارفین کے لیے کمپنی نے آن لائن فراڈ سے بچاؤ کے حوالے سے اہم سیکیورٹی ہدایات جاری کی ہیں، ایزی پیسہ کی آفیشل ویب سائٹ پر صارفین کو واضح طور پر خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اپنا OTP، PIN یا دیگر خفیہ معلومات کسی بھی شخص کے ساتھ شیئر نہ کریں۔

کمپنی کے مطابق اکاؤنٹ کی سیکیورٹی میں صارف کا خفیہ PIN اور OTP انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے کسی غیر متعلقہ شخص کو یہ معلومات فراہم کرنا مالی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

فون پر کال آئے تو ہوشیار

ایزی پیسہ کے آفیشل Fraud Awareness صفحے کے مطابق اگر کوئی شخص فون کال یا کسی دوسرے ذریعے سے صارف سے OTP مانگے تو اسے فراڈ کی کوشش سمجھا جائے،کمپنی نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ ایسے شخص سے کوئی حساس معلومات شیئر نہ کریں اور معاملے کی اطلاع ایزی پیسہ کو دیں۔

یہ بھی پڑھیں :ایزی پیسہ پر کو ن سے موبائل نیٹ ورکس کا اکائونٹ بنانے کی اجازت ہے؟

OTP کسی کو نہ بتائیں

ایزی پیسہ کے مطابق OTP اکاؤنٹ کی تصدیق کے لیے استعمال ہونے والی اہم سیکیورٹی معلومات ہے،کمپنی کے FAQ میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ OTP کے بغیر اکاؤنٹ میں لاگ اِن نہیں کیا جاسکتا،اس لیے اگر کسی صارف کو فون، SMS یا کسی دوسرے ذریعے سے OTP فراہم کرنے کا کہا جائے تو اسے فوری طور پر محتاط ہوجانا چاہیے۔

PIN بھی خفیہ رکھیں

ایزی پیسہ کے مطابق صارف کا PIN اس کے اکاؤنٹ کا خفیہ پاس کوڈ ہے اور اسے کسی بھی حالت میں دوسرے شخص کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہیے،کمپنی کے مطابق ایزی پیسہ موبائل اکاؤنٹ میں پانچ ہندسوں کا خفیہ PIN استعمال ہوتا ہے، جبکہ ایپ کے ذریعے ہونے والی ٹرانزیکشنز جدید سیکیورٹی تکنیکوں سے انکرپٹڈ ہوتی ہیں۔

ایک کال بڑا نقصان کرسکتی ہے

فراڈ کرنے والے افراد بعض اوقات خود کو بینک، موبائل کمپنی یا کسی مالیاتی ادارے کا نمائندہ ظاہر کرکے صارف سے خفیہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں،ایسی صورتحال میں صارف کو اپنا OTP، PIN، MPIN یا پاس کوڈ بتانے کے بجائے کال ختم کردینی چاہیے اور متعلقہ ادارے کے آفیشل رابطہ ذرائع سے خود تصدیق کرنی چاہیے۔

موبائل چوری ہوجائے تو کیا کریں؟

ایزی پیسہ کے مطابق موبائل فون چوری ہونے کی صورت میں اکاؤنٹ کو تحفظ دینے کے لیے PIN اہم کردار ادا کرتا ہے، کمپنی کی معلومات کے مطابق ایزی پیسہ ایپ میں فون اور PIN پر مبنی دو سطحی سیکیورٹی موجود ہے،اگر موبائل فون یا رجسٹرڈ SIM گم یا چوری ہوجائے تو صارف کو فوری طور پر متعلقہ موبائل آپریٹر کو اطلاع دے کر SIM بلاک کروانی چاہیے اور ایزی پیسہ سے بھی رابطہ کرنا چاہیے۔

PIN کیسا ہونا چاہیے؟

ایزی پیسہ کے FAQ کے مطابق صارف کا PIN پانچ ہندسوں پر مشتمل ہونا چاہیے۔ PIN ایسا نہیں ہونا چاہیے جو آسانی سے اندازہ لگایا جاسکے،کمپنی نے PIN کے حوالے سے یہ بھی بتایا ہے کہ اسے مسلسل ترتیب میں نہیں ہونا چاہیے اور تین سے زیادہ ایک جیسے ہندسے بار بار استعمال نہیں کیے جانے چاہئیں۔

اکاؤنٹ 90 دن بعد ڈورمنٹ ہوسکتا ہے

ایزی پیسہ کے مطابق اگر موبائل اکاؤنٹ میں 90 دن تک کوئی سرگرمی نہ ہو تو اکاؤنٹ کا اسٹیٹس ڈورمنٹ ہوجاتا ہے، کمپنی کے مطابق یہ اقدام اکاؤنٹ کو فراڈ کے خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

مشکوک ٹرانزیکشن  

اگر صارف کے اکاؤنٹ سے ایسی ٹرانزیکشن ہوجائے جو اس نے خود نہیں کی تو اسے فوری طور پر ایزی پیسہ کے آفیشل شکایتی نظام یا ہیلپ لائن سے رابطہ کرنا چاہیے،ایزی پیسہ کی آفیشل Fraud Awareness معلومات کے مطابق صارفین مشکوک فراڈ کی صورت میں 3737 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔

صارفین کے لیے سب سے اہم بات

ایزی پیسہ صارفین کے لیے بنیادی اصول یہی ہے کہ OTP، PIN اور MPIN کسی شخص کو نہ دیا جائے، چاہے سامنے والا خود کو کمپنی کا نمائندہ ہی کیوں نہ ظاہر کرے،کسی بھی مشکوک کال یا پیغام پر معلومات فراہم کرنے کے بجائے خود ایزی پیسہ کے آفیشل ذرائع سے رابطہ کرنا زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔

editor

Related Articles