سابق وزیر اعظم بنگلہ دیش شیخ حسینہ واجد سے رابطہ کرنے پر بنگلادیش حکومت نے شکیب الحسن کی کرکٹ ٹیم میں واپسی کے امکانات مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ان کے لیے ٹیم میں واپسی کی کوئی گنجائش نہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق شکیب الحسن نے معزول اور مفرور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے ساتھ نئی دہلی میں ہونے والے ایک میڈیا پروگرام میں بذریعہ ٹیلی فون شرکت کی، جس کے بعد بنگلادیشی حکومت نے ان کی واپسی کے حوالے سے واضح مؤقف اختیار کیا۔
واپسی کی گنجائش نہیں
بنگلادیش کے وزیرِ نوجوانان و کھیل امین الحق نے کہا کہ حکومت شکیب الحسن کے معاملے میں اب تک نسبتاً نرم اور لچکدار رویہ اختیار کیے ہوئے تھی، تاہم موجودہ صورتحال کے بعد اس گنجائش کی کوئی جگہ نہیں رہی،امین الحق کا کہنا تھا کہ جو شخص آمر کے ساتھ ایک ہی اسٹیج پر کھڑا ہوچکا ہو، اس کے لیے اب قومی ٹیم میں واپسی کا کوئی موقع نہیں۔
سیکیورٹی کی ضمانت کا مطالبہ
دوسری جانب شکیب الحسن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر انہیں سیکیورٹی کی ضمانت فراہم کی جائے تو وہ مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے بنگلادیش واپس آنے کو تیار ہیں۔
سیاسی پس منظر
39 سالہ شکیب الحسن سابق حکمراں جماعت عوامی لیگ کے رکنِ پارلیمنٹ بھی رہ چکے ہیں، جس کی قیادت شیخ حسینہ کرتی تھیں۔
قتل کیس کی تحقیقات
شکیب اس وقت سری لنکا میں موجود ہیں اور ان افراد میں شامل ہیں جن کے خلاف شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے سے قبل طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کے مبینہ مہلک کریک ڈاؤن سے متعلق قتل کی تحقیقات جاری ہیں۔
شیخ حسینہ اقتدار سے باہر
یاد رہے کہ شیخ حسینہ کو طلبہ کی قیادت میں ہونے والے شدید احتجاج کے بعد اقتدار چھوڑ کر ملک سے فرار ہونا پڑا تھا، جس کے بعد سے ان کی سیاسی جماعت اور سابق حکومتی عہدیداروں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔