پاکستان ٹرانسپورٹ کونسل نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد ملک بھر میں جاری پہیہ جام ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کردیا۔
پاکستان ٹرانسپورٹ کونسل کے صدر تنویر احمد نے دیگر عہدیداران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے ٹرانسپورٹرز کے متعدد فوری مطالبات تسلیم کرلیے ہیں جبکہ دیگر معاملات کے حل کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی ہے جو ٹرانسپورٹرز کے باقی مطالبات پر کام کرے گی۔ حکومت کی جانب سے معاملات کو سنجیدگی سے حل کرنے کی یقین دہانی کے بعد ملک کے وسیع تر مفاد میں ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تنویر احمد جٹ کے مطابق ٹرانسپورٹرز کے تقریباً 8 فوری نوعیت کے مطالبات پر اتفاق ہوگیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل کی روزانہ قیمت مقرر کرنے کے معاملے سمیت دیگر امور پر بات چیت جاری رکھنے کے لیے کمیٹی بنائی گئی ہے۔ ٹول پلازوں سے متعلق بھی مذاکرات میں بعض فیصلے کیے گئے ہیں۔
صدر پاکستان ٹرانسپورٹ کونسل نے بتایا کہ چھ روزہ ہڑتال کے باعث ملک کی بندرگاہوں، درآمدات و برآمدات اور کاروباری سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچا۔ اشیائے ضروریہ، سبزیوں، دالوں اور راشن کی ترسیل بھی متاثر ہوئی جس کے باعث ملکی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کو کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم سمیت ملک بھر میں فوری طور پر گاڑیوں کی آمدورفت بحال کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ٹول پلازوں کو آٹومیشن پر منتقل کیا جائے گا اور اضافی ٹول پلازوں کے معاملے پر بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
تنویر احمد جٹ کے مطابق این ایچ ایس او 2000 کی روح کے مطابق عمل درآمد، مزدہ گاڑیوں کے وزن کی حد 12 ٹن مقرر کرنے اور بڑے 10 ویلر ٹرکوں کے وزن کو 35 ٹن تک لانے پر بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ ایس آر او 1619 کے تحت بند گاڑیوں کو بینک گارنٹی کے عوض ریلیز کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز نے ایک سال تک ٹول پلازوں کے نرخوں میں اضافہ نہ کرنے کا مطالبہ بھی حکومت کے سامنے رکھا ہے۔
پاکستان ٹرانسپورٹ کونسل کے صدر نے واضح کیا کہ اگر طے شدہ مطالبات پر عمل درآمد نہ ہوا تو ٹرانسپورٹرز دوبارہ ملک گیر احتجاج کا راستہ اختیار کرسکتے ہیں۔ انہوں نے مذاکرات میں تعاون پر حکومت اور متعلقہ حکام کا شکریہ بھی ادا کیا۔