سربیا کی سیاست میں ہلچل، صدر مستعفی، قبل از وقت انتخابات کا سنسنی خیز اعلان

سربیا کی سیاست میں ہلچل، صدر مستعفی، قبل از وقت انتخابات کا سنسنی خیز اعلان

سربیا کے طاقتور صدر الیکساندر ووچچ نے ملک میں گزشتہ 18 ماہ سے جاری شدید حکومت مخالف مظاہروں اور سیاسی دباؤ کے بعد ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ چند ہفتوں میں اپنے عہدے سے باقاعدہ مستعفی ہو جائیں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق دارالحکومت بیلگریڈ میں اپنے لاکھوں حامیوں کے ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے صدر ووچچ نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ وہ ’چند ہفتے ہی مزید صدر رہیں گے‘ اور اس کے بعد صدارت چھوڑ دیں گے، جس کے نتیجے میں ملک میں قبل از وقت صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کی راہ ہموار ہوگی۔

18 ماہ کا طویل احتجاج اور نووی ساد ریلوے اسٹیشن کا ہولناک حادثہ

رپورٹ کے مطابق سربیا میں یہ سنسنی خیز سیاسی پیشرفت اچانک نہیں ہوئی بلکہ یہ گزشتہ 18 ماہ سے جاری اس ملک گیر حکومت مخالف تحریک کا نتیجہ ہے جس نے پوری بلقان ریاست کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:سربیا کے صدر کا اہم بیان، پاک بھارت کشیدگی میں بھارتی دفاعی نظام سے متعلق نئی بحث چھڑ گئی

اس بڑے احتجاجی سلسلے کا آغاز نومبر 2024 میں نووی ساد شہر کے ایک ریلوے اسٹیشن پر چھت گرنے کے ہولناک حادثے کے بعد ہوا تھا، جس میں 16 بے گناہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اپوزیشن اور عوام نے اس حادثے کا ذمہ دار حکومتی کرپشن اور ناقص تعمیرات کو ٹھہراتے ہوئے صدر سے فوری استعفے کا مطالبہ کر رکھا تھا۔

حکمران جماعت کی فتح کا دعویٰ اور تاریخ کی غیر یقینی صورتحال

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے صدر الیکساندر ووچچ نے عزم ظاہر کیا کہ ان کی حکمران جماعت ’سربین پروگریسو پارٹی‘آئندہ ہونے والے قبل از وقت انتخابات میں ایک بار پھر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ صدارت کا عہدہ چھوڑنے کے باوجود انتخابی عمل میں اپنی جماعت کی مہم اور حمایت پوری طاقت سے جاری رکھیں گے۔

 تاہم اپنے خطاب میں انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس حتمی تاریخ کو مستعفی ہو رہے ہیں یا ملکی پارلیمنٹ کو باقاعدہ کب تحلیل کیا جائے گا۔

صدارت سے علیحدگی اور ‘وزیرِاعظم’ بننے کا ممکنہ منصوبہ

سیاسی ماہرین اور بین الاقوامی مبصرین کے مطابق الیکساندر ووچچ کا یہ استعفیٰ ان کے سیاسی کیریئر کا خاتمہ ہرگز نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اگر ووچچ صدر کے عہدے سے ہٹ بھی جائیں، تو وہ اپنی پارٹی کی اکثریت کی بنیاد پر ممکنہ طور پر آئندہ حکومت میں ‘وزیرِاعظم’ کے طور پر دوبارہ سب سے طاقتور سیاسی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

سربیا کے آئین کے تحت اصل انتظامی اختیارات وزیراعظم کے پاس ہوتے ہیں، اس لیے اس چال کے ذریعے وہ اپنا مکمل اثر و رسوخ برقرار رکھنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

اپوزیشن اور طلبہ تحریکوں کا سخت مقابلے کا اعلان

دوسری جانب صدر کے اس بڑے اعلان کے بعد ملک کی سیاسی فضا مزید گرم ہو گئی ہے۔ سربیا کی متحدہ اپوزیشن اور احتجاج کی قیادت کرنے والی متحرک طلبہ تحریکوں نے صدر ووچچ کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اب پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

 اپوزیشن لیڈروں نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہونے والے قبل از وقت صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں صدر ووچچ، ان کی پارٹی اور ان کے تمام اتحادیوں کو بدترین اور سخت ترین شکست دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

مزید پڑھیں:جمہوری آزادیوں کو محدود کرنے کا الزام، امریکا، سربیا اور کانگو جیسے ممالک کے ساتھ عالمی واچ لسٹ میں شامل

الیکساندر ووچچ گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ  عرصے سے سربیا کی سیاست کے سب سے طاقتور محور رہے ہیں، جہاں انہوں نے پہلے وزیرِاعظم اور پھر صدر کے طور پر ملک پر مضبوط گرفت برقرار رکھی۔

ان کے دورِ حکومت میں سربیا نے روس اور مغربی ممالک (یورپی یونین) کے درمیان ایک نازک سفارتی توازن برقرار رکھا۔

 تاہم نومبر 2024 میں نووی ساد ریلوے اسٹیشن کی تعمیرِ نو کے فوراً بعد پیش آنے والے حادثے نے عوام کے اندر موجود غصے کو چنگاری دی، کیونکہ مظاہرین کا الزام تھا کہ حکومت نے چینی اور مقامی کمپنیوں کو ٹھیکے دیتے وقت میرٹ اور سیکیورٹی کو نظرانداز کیا۔ یہ احتجاج بتدریج ایک بڑی سیاسی تحریک میں تبدیل ہو گیا۔

Related Articles