سوشل میڈیا اور بین الاقوامی صحافتی حلقوں میں ایک انتہائی سنسنی خیز اور چونکا دینے والی خبر گردش کر رہی ہے، جس کے مطابق افغانستان میں طالبان کی سب سے بڑی انٹیلی جنس ایجنسی نے پاکستان آرمی کے شدید ناقد اور بھگوڑے عادل راجا کے لیے باقاعدہ فنڈز جاری کر دیے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سامنے آنے والے اس دعوے نے پاک-افغان سیکیورٹی منظر نامے اور انٹرنیٹ پر جاری پروپیگنڈا وار میں ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔
2000 برطانوی پاؤنڈ کا ماہانہ وظیفہ، احمد شریف زاد کا دعویٰ
تفصیلات کے مطابق، یہ سنسنی خیز دعویٰ معروف افغان امور کے صحافی احمد شریف زاد نے سوشل میڈیا پر کیا۔ ان کے مطابق، طالبان کے طاقتور ادارے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس نے پاکستان اور پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے اور لغویات بکنے کے لیے عادل راجا کا نام باقاعدہ اپنے فنڈنگ نیٹ ورک میں شامل کیا ہے۔
دعوے میں کہا گیا ہے کہ طالبان انٹیلی جنس نے عادل راجا کے لیے 2000 برطانوی پاؤنڈ (برٹش پاؤنڈز) کے مساوی خطیر ‘آپریشنل وظیفہ’ مقرر کر دیا ہے۔
انٹیلی جنس دستاویزات حاصل کرنے کا دعویٰ
صحافی احمد شریف زاد نے اپنی پوسٹ میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ سنگین معلومات انہیں طالبان کی انٹیلی جنس ایجنسی کے اندرونی ذرائع سے حاصل ہونے والی ایک انتہائی خفیہ دستاویز کے ذریعے ملی ہیں۔
سوشل میڈیا پوسٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ خطیر رقم اور مالی ادائیگی بنیادی طور پر طالبان حکومت (امارتِ اسلامیہ) کے بیانیے کی حمایت، ان کے حق میں پروپیگنڈا کرنے اور پاکستان کے ریاستی و عسکری اداروں کو کمزور کرنے کی سرگرمیوں کے اعتراف میں بطور ‘انعام و وظیفہ’ مقرر کی گئی ہے۔
بھگوڑا عادل راجا چند سال قبل پاکستان سے برطانیہ فرار ہو گیا تھا، جہاں انہوں نے یوٹیوب اور ایکس (ٹویٹر) پر پاکستانی فوج، عدلیہ اور انٹیلی جنس اداروں کے خلاف ایک انتہائی جارحانہ اور متنازع مہم شروع کر رکھی ہے۔
حکومتِ پاکستان اور ریاستی اداروں کی جانب سے ان پر بغاوت، ہرزہ سرائی، اور ملک کے اندر فتنہ و فساد پھیلانے کے متعدد مقدمات درج ہیں، جبکہ پاکستان انہیں باقاعدہ ‘بھگوڑا’ اور اشتہاری قرار دے چکا ہے۔
دوسری جانب، پاکستان اور افغانستان (طالبان حکومت) کے تعلقات ٹی ٹی پی کی افغان سر زمین پر موجودگی اور پاکستان میں ہونے والے دہشتگردانہ حملوں کے باعث طویل عرصے سے شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔