اڈیالہ جیل انتظامیہ نے بانی پی ٹی آئی کی صحت اور جیل میں ملاقاتوں کے معاملات پر سپریم کورٹ میں 2 صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ جمع کروا دی ہے، جس میں ان کے میڈیکل چیک اپ اور ملاقاتوں کا مکمل ریکارڈ پیش کیا گیا ہے۔
جیل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق، بانی پی ٹی آئی کو جیل قوانین کے مطابق تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کی صحت تسلی بخش ہے اور ان کی آنکھ کا علاج ماہر امراض چشم کی نگرانی میں کیا گیا، جس کے بعد اب ایک آنکھ تقریباً نارمل ہو چکی ہے۔
84 ملاقاتیں اور میڈیکل ریکارڈ
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کی ہر منگل کو جیل رولز کے تحت باقاعدگی سے ملاقات کرائی جاتی ہے اور اب تک ان کی 84 ملاقاتیں کروائی جا چکی ہیں۔ مزید برآں، ان کے وکیل سلمان صفدر نے بھی 10 فروری اور 4 اپریل 2026 کو ملاقات کی ہے۔
میڈیکل سہولیات کے حوالے سے رپورٹ میں درج ہے کہ میڈیکل افسران دن میں 3 مرتبہ کھانے پینے کی جانچ اور طبی معائنہ کرتے ہیں، جبکہ 4 نومبر 2023 سے 10 اگست 2026 تک 39 مختلف طبی ماہرین کی جانب سے کیے گئے چیک اپ کی سمری بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔
میڈیا ٹاک اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی
رپورٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ عدالتی حکم نامے کے باوجود ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک کر کے خلاف ورزی کی گئی۔
جیل انتظامیہ کے مطابق، سلمان اکرم راجا نے عدالت میں یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو نہیں کریں گے، تاہم اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جیل میں ہونے والی ان ملاقاتوں کے ذریعے عدلیہ، خارجہ پالیسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف عوامی جذبات کو ابھارا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا سنگل بنچ پنجاب حکومت بنام شیر افضل کیس میں جیل رولز 265 کو پہلے ہی خلافِ قانون قرار دے چکا ہے۔
موجودہ کیس میں، جیل انتظامیہ نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ ان حقائق کی روشنی میں اس معاملے کو اب نمٹا دیا جائے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل توہینِ عدالت کا ایک کیس چیف جسٹس سرفراز کی سربراہی میں بنچ نمٹا چکا ہے۔
سپریم کورٹ کے لیے اب یہ فیصلہ کرنا اہم ہوگا کہ کیا ملاقاتوں کی تعداد اور طبی ریکارڈ کے بعد اس معاملے کو بند کیا جائے یا ان نکات پر مزید وضاحت طلب کی جائے۔۔