پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) نے مالی سال 26-2025کے دوران شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی تاریخ کی سب سے زیادہ 367 ارب روپے سے زیادہ ٹیکس وصولی کر کے ایک نیا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت میں میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے چیئرمین پی آر اے معظم اقبال سپرا نے تصدیق کی ہے کہ یہ ادارہ قائم ہونے کے بعد سے اب تک کسی بھی مالی سال میں اکٹھا کیا جانے والا سب سے بڑا ٹیکس ریونیو ہے۔ اس غیر معمولی کامیابی پر صوبائی حکومت کی جانب سے بھی ادارے کی کارکردگی کو سراہا گیا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق گزشتہ مالی سال 25-2024 میں پی آر اے نے مجموعی طور پر 270 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا تھا۔
اس لحاظ سے رواں مالی سال کے دوران ادارے نے 97 ارب روپے زیادہ کی ریکارڈ وصولی کی ہے، جس کے بعد پی آر اے کا سالانہ گروتھ ریٹ 36 فیصد درج کیا گیا ہے۔ یہ شرح نمو صوبے کے مالیاتی شعبے میں ایک تاریخی اضافہ تصور کی جا رہی ہے۔
نئے مالی سال کا ہدف اور مستقبل کی حکمت عملی
چیئرمین پی آر اے معظم اقبال سپرا کا کہنا ہے کہ اس ریکارڈ کامیابی اور ٹیکس نیٹ میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے اگلے مالی سال 27-2026 کے لیے پنجاب ریونیو کا ہدف بڑھا کر 528 ارب روپے مقرر کر دیا ہے۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جدید نظام، آٹومیشن اور ٹیکس دہندگان کے تعاون سے اس نئے اور مشکل ہدف کو بھی حاصل کرنے کے لیے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے گا۔
پنجاب ریونیو اتھارٹی کا قیام اور دائرہ کار
پنجاب ریونیو اتھارٹی کا قیام ‘پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2012’ کے تحت عمل میں لایا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد صوبے میں سروسز (خدمات) کے شعبے پر سیلز ٹیکس وصول کرنا اور صوبائی وسائل کو خود کفالت کی طرف لے جانا ہے۔
شروع میں پی آر اے کا ٹیکس نیٹ محدود تھا، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، ٹیلی کام، کورئیر سروسز، اور بینکنگ سمیت درجنوں دیگر سروسز کو اس کے دائرہ کار میں شامل کیا گیا۔
ماضی میں مرکز (ایف بی آر) پر انحصار کرنے کے بجائے پنجاب نے اپنے بل بوتے پر ریونیو جنریشن کا یہ کامیاب ماڈل اپنایا، جو اب دیگر صوبوں کے لیے بھی ایک مثال بن چکا ہے۔
36 فیصد گروتھ ریٹ کے معیشت پر اثرات اور چیلنجز
واضح رہے کہ کسی بھی صوبائی محکمے کے لیے ایک سال میں 36 فیصد کی گروتھ حاصل کرنا انتہائی غیر معمولی بات ہے۔ پی آر اے کی اس کامیابی کی بڑی وجہ ٹیکس چوری کے خلاف ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کا نفاذ اور ’ریسٹورنٹ انوائس مانیٹرنگ سسٹم‘ (رمز) جیسی ٹیکنالوجیز کا کامیاب استعمال ہے۔
97 ارب روپے کا یہ اضافی ریونیو پنجاب حکومت کو صوبے میں نئے اسکولوں، اسپتالوں، سڑکوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالیاتی گنجائش (فیسکل اسپیس) فراہم کرے گا۔
واضح رہے کہ مالی سال 27-2026 کے لیے 528 ارب روپے کا نیا ہدف حاصل کرنا پی آر اے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ اس ہدف کو پورا کرنے کے لیے پی آر اے کو ٹیکس کی شرح بڑھانے کے بجائے نئے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہو گا، کیونکہ موجودہ معاشی حالات میں کاروباروں پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے سے خدمات کے شعبے میں مندی کا رجحان پیدا ہو سکتا ہے۔