امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کا گراف کم ہونے لگا ، اب تک کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔
رائٹرز اپسوس سروے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح میں کمی ہوئی ہے ، ٹرمپ کی مقبولیت اس ماہ کے آغاز میں 35 فیصد سے کم ہو گئی۔
سروے کے مطابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت صدارت کے دوران اب تک کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
رائٹر اپسوس کے سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ64 فیصد امریکی ٹرمپ کی بطور صدر کارکردگی سے ناخوش ہیں، یہ شرح اب ان کی سابقہ مدتِ صدارت کے دوران دسمبر 2017 میں پہنچنے والی کم ترین سطح کے برابر ہو گئی ہے۔
سروے کے مطابق80 فیصد امریکیوں کاخیال ہے ایران میں امریکی مداخلت طویل عرصے تک جاری رہے گی۔
2025 میں وائٹ ہاؤس واپس آنے کے وقت ملک کے نصف سے ذرا کم لوگوں کی جانب سے ان کی صدارت کی منظوری کے باوجود، اس سال ٹرمپ کی مقبولیت کو اس وقت دھچکا لگا جب انھوں نے امریکا کے اتحادی اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملے کا حکم دیا۔
سروے میں 38 فی صد ووٹرز کا خیال تھا کہ ڈیموکریٹس معیشت کو بہتر انداز میں سنبھالیں گے، جبکہ 35 فی صد نے ریپبلکن طریقۂ کار کو ترجیح دی ، ڈیموکریٹس کو زندگی گزارنے کے اخراجات سے نمٹنے کے لیے بھی زیادہ موزوں سمجھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کی پوری مدتِ صدارت کے دوران امیگریشن کے معاملے میں ریپبلکن طریقۂ کار ڈیموکریٹس کے طریقۂ کار سے زیادہ مقبول رہا ہے ، اس کی وجہ سرحد پر آمدورفت میں نمایاں کمی اور ٹرمپ کے حکم پر ملک بھر میں جاری سخت کریک ڈاؤن ہے۔ تاہم مہلک جھڑپوں اور زیرِ حراست افراد، جن میں بچے بھی شامل ہیں، کی تعداد میں اضافے کے باعث ریپبلکنز اس معاملے پر حمایت کھو رہے ہیں۔
سروے کے مطابق تقریباً 40 فی صد رجسٹرڈ ووٹرز نے کہا کہ امیگریشن پالیسی کے حوالے سے ریپبلکنز کا طریقۂ کار بہتر ہے، جب کہ 38 فی صد نے ڈیموکریٹس کو منتخب کیا۔ یہ 2 فی صد پوائنٹس کا فرق ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے دوران اب تک کا سب سے کم فرق ہے۔ جنوری 2025 میں ریپبلکنز کو اس معاملے پر 26 فی صد پوائنٹس کی برتری حاصل تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت آئندہ صدارتی دوڑ پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے، جبکہ یہ رجحان امریکی سیاست میں بدلتی عوامی ترجیحات کی بھی عکاسی کرتا ہے، آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ ٹرمپ اس چیلنج سے کیسے نمٹتے ہیں اور اپنی سیاسی پوزیشن کو کس حد تک مستحکم کر پاتے ہیں۔