ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے علاوہ ایران اور غزہ کی صورتحال سمیت خطے میں جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔
ترک صدارتی دفتر کے مطابق دونوں صدور کے درمیان ہونے والی گفتگو میں پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدوں کے معاملے پر بھی بات چیت کی گئی۔ رہنماؤں نے خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور مختلف تنازعات کے سفارتی حل کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
ٹیلیفونک گفتگو کے دوران ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنا ضروری ہے اور موجودہ صورتحال میں سفارتکاری کے ذریعے مسائل حل کرنے کے امکانات سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔
رجب طیب اردوان نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اور سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنا خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ترکیے کی جانب سے اپنا کردار ادا کرنے کی آمادگی کا بھی اظہار کیا۔
ترک صدر کا کہنا تھا کہ ترکیے خطے میں امن اور استحکام کے لیے سفارتی کوششوں میں تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں بات چیت کے دروازے کھلے رکھنا اور فریقین کے درمیان رابطوں کو فروغ دینا کشیدگی میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان غزہ کی صورتحال بھی گفتگو کا اہم موضوع رہی۔ صدر اردوان نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایسے وقت میں فلسطینیوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے جب امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد ہونا تھا۔
ترک صدر نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں امن کے لیے طے کیے گئے اقدامات پر عمل درآمد ضروری ہے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
ٹیلیفونک رابطے میں ترکیے اور امریکا کے باہمی تعلقات سمیت خطے کے دیگر اہم معاملات بھی زیر بحث آئے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدوں کا معاملہ بھی گفتگو کا حصہ رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی مجموعی علاقائی صورتحال کو اہمیت حاصل رہی۔
ایران کے معاملے پر ترکیے کا مؤقف طویل عرصے سے مذاکرات اور سفارتکاری کو ترجیح دینے پر مبنی رہا ہے۔ تازہ رابطے میں بھی صدر اردوان کی جانب سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے پر زور دیا گیا ہے، جبکہ ترکیے نے کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنے سفارتی کردار کی پیشکش بھی کی ہے۔
دوسری جانب غزہ کے معاملے پر ترک صدر کی جانب سے اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ترکیے خطے میں جاری تنازعات کے حل کے لیے سفارتی کوششوں اور امن منصوبوں پر عمل درآمد کو اہم سمجھتا ہے۔