ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور آخری رسومات کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہیں جبکہ ملک بھر میں غم و سوگ کی کیفیت طاری ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق شہید آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کا جسدِ خاکی تہران کے جنوبی علاقے میں واقع امام خمینی حسینیہ منتقل کر دیا گیا ہے جہاں نماز جنازہ کے انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق نماز جنازہ کل تہران میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی جائے گی جس میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق نماز جنازہ کے بعد شہید رہنما کے جسدِ خاکی کو پہلے قم پھر عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا تاکہ وہاں عقیدت مند آخری دیدار کر سکیں۔ بعد ازاں میت کو دوبارہ ایران لایا جائے گا جہاں مشہد مقدس میں سپردِ خاک کیا جائے گا سرکاری اندازوں کے مطابق جنازے کے جلوس میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم بھی وفاقی کابینہ کے اہم وزرا کے ہمراہ آج ایران روانہ ہوں گے جہاں وہ شہید سپریم لیڈر کی نماز جنازہ میں شرکت کریں گے اور ایرانی قیادت سے تعزیت کا اظہار کریں گے۔
ایرانی حکومت نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے موقع پر 6 جولائی کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے جبکہ 8 جولائی کو یومِ سوگ منایا جائے گا۔ حکومتی ترجمان کے مطابق ان دونوں دنوں سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا اور مختلف شہروں میں تعزیتی اجتماعات دعائیہ تقریبات اور مذہبی مجالس کا انعقاد کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای امریکی و اسرائیلی حملوں کے دوران شہید ہوئے تھے۔ ان حملوں میں ان کے خاندان کے متعدد افراد بھی جاں بحق ہوئے جن میں ان کی بہو بھی شامل تھیں۔ اس واقعے کے بعد ایران بھر میں کئی روز تک سرکاری و عوامی سطح پر تعزیتی تقریبات جاری رہیں، جبکہ مختلف ممالک کی جانب سے بھی تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ شہید سپریم لیڈر کی آخری رسومات کے لیے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ لاکھوں زائرین اور شہریوں کی آمد کے پیش نظر تہران، قم مشہد نجف اور کربلا میں خصوصی انتظامی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔