بھارت کی بڑی ناکامی ،ماسکو نے کراچی تک ریلوے نظام قائم کرنے کا اعلان کردیا

بھارت کی بڑی ناکامی ،ماسکو نے کراچی تک ریلوے نظام قائم کرنے کا اعلان کردیا

روس کے پاکستان میں سفیر البرٹ خوروف نے کہا ہے کہ روس اور پاکستان ماسکو سے کراچی اور فیصل آباد تک پہلی مال بردار ریلوے سروس شروع کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، جبکہ بیلاروس کو بھی اس منصوبے میں شامل کرنے کے امکان پر غور کیا جا رہا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :پہلگام فالس فلیگ کو ایک سال مکمل، بھارتی سیکیورٹی فورسز کی ناکامی بےنقاب

روسی خبر رساں ادارے ازویستیا کو 8 اگست کو دیے گئے انٹرویو میں روسی سفیر نے بتایا کہ دونوں ممالک مجوزہ ماسکو-کراچی اور ماسکو-فیصل آباد روٹس پر دو طرفہ مال بردار ٹرین سروس شروع کرنے کے لیے تعاون کر رہے ہیں۔

البرٹ خوروف کے مطابق منصوبے میں بیلاروس کی ممکنہ شمولیت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فریقین اس وقت مال برداری سے متعلق معاہدے کو حتمی شکل دینے کے ساتھ ساتھ مجوزہ روٹ سے اپنی تجارتی اشیا منتقل کرنے میں دلچسپی رکھنے والی مختلف ممالک کی کمپنیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

روسی سفیر نے بتایا کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث 2025 اور 2026 کے ابتدائی مہینوں کے دوران اس منصوبے کو متعدد مرتبہ تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اب اسے عملی شکل دینے کے لیے پیش رفت جاری ہے۔

مجوزہ ریلوے رابطہ روس اور پاکستان کے درمیان براہِ راست زمینی مال برداری کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط اور ٹرانسپورٹ کنیکٹیویٹی مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :روس میں سونے سے بھی زیادہ قیمتی معدنیات دریافت

روس اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات یکم مئی 1948 کو قائم ہوئے تھے۔ دونوں ممالک نے گزشتہ برسوں کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا ہے۔ ماضی میں سوویت ماہرین نے پاکستان میں کراچی اسٹیل ملز اور گدو تھرمل پاور پلانٹ سمیت اہم منصوبوں میں بھی کردار ادا کیا۔

دریں اثنا، روسی نائب وزیراعظم الیکسی اوورچوک نے بھی چند روز قبل کہا تھا کہ یوریشین اکنامک یونین (EAEU) اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارتی زون کے قیام کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

6 اگست کو یوریشین انٹرگورنمنٹل کونسل کے اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے الیکسی اوورچوک نے کہا کہ روس اور پاکستان سمیت متعلقہ فریقوں کے ماہرین کے درمیان مشترکہ مشاورت ہو چکی ہے اور مستقبل قریب میں آزاد تجارتی زون کے قیام کے لیے باضابطہ مذاکرات شروع ہونے کی توقع ہے۔

editor

Related Articles