بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اربوں روپے کی رقوم کی منتقلی سے متعلق آڈٹ اعتراضات سامنے آگئے

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اربوں روپے کی رقوم کی منتقلی سے متعلق آڈٹ اعتراضات سامنے آگئے

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں اربوں روپے کی رقوم کی منتقلی سے متعلق آڈٹ اعتراضات سامنے آگئے ہیں، جہاں قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں 19 ارب روپے سے زائد رقم کے متعلقہ صوبے یا ضلع سے باہر منتقل ہونے کا انکشاف کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں 19 ارب روپے سے زائد کی رقم کی منتقلی سے متعلق انکشاف سامنے آیا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر معین عامر پیرزادہ کی زیر صدارت ہوا، جس میں بی آئی ایس پی کے سال 2010 سے 2023 تک کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا،رپورٹس کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ 19 ارب روپے سے زائد کی رقم متعلقہ صوبے یا ضلع سے باہر منتقل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بی آئی ایس پی کی موبائل رجسٹریشن وین کا آغاز، مستحق افراد کو دہلیز پر سہولت فراہم کی جائے گی: روبینہ خالد

آڈٹ حکام کے مطابق ملتان کی ایک فرنچائز سے 39 مختلف اضلاع کے افراد کو بی آئی ایس پی کے تحت رقوم فراہم کی گئیں، جبکہ قواعد کے مطابق متعلقہ صوبے سے باہر رقم نکلوانا ممنوع ہے، اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ 21 ایسے افراد کا ریکارڈ سامنے آیا جن کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ وفات پا چکے ہیں۔

کمیٹی کنوینر معین عامر پیرزادہ نے کہا کہ یہ آڈٹ پیرا 8 ماہ قبل ایف آئی اے کو بھیجا گیا تھا، تاہم تاحال ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا انہوں نے متعلقہ حکام سے افسران کی تفصیلات طلب کرلیں،پی اے سی کی ذیلی کمیٹی نے بی آئی ایس پی حکام کو تمام متعلقہ ریکارڈ فراہم کرنے کیلئے 15 دن کی مہلت دے دی۔

editor

Related Articles