پیپلز پارٹی اور ن لیگ آمنے سامنے ، عظمیٰ بخاری نے پیپلز پارٹی کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لے لیا

پیپلز پارٹی اور ن لیگ آمنے سامنے ، عظمیٰ بخاری نے پیپلز پارٹی کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لے لیا

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی کشیدگی میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے۔ دونوں جماعتوں کی قیادت اور ترجمان ایک دوسرے پر لفظی حملے کر رہے ہیں جبکہ پنجاب حکومت کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے پیپلز پارٹی کی قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کی ترقی اور عوامی فلاح کے منصوبے بعض سیاسی جماعتوں کو ہضم نہیں ہو رہے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو پنجاب سے بغض اور نفرت کی وجہ سب کو معلوم ہے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے عوام کے ٹیکس کا پیسہ انہی کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جا رہا ہے مگر بعض عناصر کو یہی بات ناگوار گزر رہی ہے۔

انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کا نام لیے بغیر کہا کہ نفرت اور تقسیم کی سیاست کسی قومی جماعت کے سربراہ کو زیب نہیں دیتی۔ ان کے مطابق سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن عوامی خدمت پر تنقید مناسب نہیں۔ انہوں نے بلاول بھٹو کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی جماعت کی سیاسی ذمہ داریوں کے مطابق محتاط طرزِ گفتگو اختیار کریں۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے سندھ حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ترجمان ہمیشہ پنجاب پر تنقید کرتے ہیں مگر سندھ میں اپنی حکومت کی کارکردگی پر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو یہ بھی بتایا جائے کہ سندھ میں تعلیم، صحت، بلدیاتی نظام اور بنیادی سہولتوں کی صورتحال کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب میں پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری، نئی سرکاری سہولت کا اعلان

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے کے وسائل کو صرف چند شہروں تک محدود رکھنے کے بجائے اٹک سے رحیم یار خان اور راولپنڈی سے وہاڑی تک ترقیاتی منصوبوں کا دائرہ وسیع کیا ہے جس کے ثمرات عوام تک پہنچ رہے ہیں۔ ان کے مطابق پنجاب میں جاری ترقیاتی منصوبے، صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور عوامی فلاح کے اقدامات مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی کا واضح ثبوت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب میں پیپلز پارٹی عوامی حمایت حاصل نہیں کر پا رہی تو اس کا ذمہ دار مسلم لیگ (ن) نہیں بلکہ خود پیپلز پارٹی کی سیاسی کارکردگی ہے۔ ان کے مطابق پنجاب کے عوام نے ہمیشہ کارکردگی کی بنیاد پر فیصلہ کیا ہے اور آج بھی مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔

عظمیٰ بخاری نے کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کے حالیہ دورہ لاہور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ لاہور آ کر ترقیاتی ماڈل کا جائزہ لینا چاہتے ہیں تو پنجاب حکومت ان کا خیرمقدم کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواہش ہے کہ سندھ کے عوام کو بھی وہی ترقی اور سہولتیں میسر آئیں جو آج پنجاب کے عوام کو حاصل ہیں۔

 اتحادی حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان بیانات کی جنگ مسلسل تیز ہوتی جا رہی ہے۔ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی کارکردگی اور طرزِ حکمرانی کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں جس سے مستقبل میں سیاسی تعلقات اور حکومتی تعاون پر بھی اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles