امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید بڑے فوجی حملوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نئی عسکری کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
امریکی خبر رساں ادارے ایکزیوس کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ “ابھی ایران کو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی اس لیے ہم مزید بڑی فوجی کارروائیوں پر غور کر رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ اگر فیصلہ کیا گیا تو ممکنہ حملے پہلے کیے گئے “آپریشن ایپک فیوری” کے حملوں سے بھی زیادہ بڑے اور شدید ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے اگرچہ ایران کے خلاف مزید کارروائی کی دھمکی دی تاہم ساتھ ہی واضح کیا کہ نئے حملوں کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور مختلف آپشنز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے معاملے پر مختلف مؤقف سامنے آئے ہیں۔
امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران کے خلاف جنگ روکنے کی قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور کی، جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔
دوسری جانب امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف فوجی آپریشن روکنے کی قرارداد مسترد کر دی جہاں قرارداد کے حق میں 47 جبکہ مخالفت میں 49 ووٹ آئے، جس کے بعد صدر ٹرمپ کے لیے ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی جاری رکھنے کی سیاسی گنجائش برقرار رہی۔
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مہینوں میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان عسکری کارروائیوں، جوابی حملوں اور سخت بیانات کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کا آغاز کرتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی توانائی کی منڈی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔