وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت ملک بھر میں پہلی بار گھر خریدنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے خوشخبری سامنے آئی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کمرشل بینکوں اور مائیکروفنانس بینکوں کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ جن پاکستانی شہریوں کے نام پر پہلے سے کوئی رہائشی مکان موجود نہیں وہ وزیراعظم کی سبسڈی یافتہ ہاؤسنگ فنانس اسکیم کے لیے اہل ہوں گے۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد ملک میں موجود ایک کروڑ (10 ملین) سے زائد گھروں کی کمی کو مرحلہ وار پورا کرنا ہے۔
یہ اعلان اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسلامک فنانس گروپ غلام محمد عباسی نے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام ، گھر ہو تو اپنا کے عنوان سے منعقدہ ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ وزیراعظم ہاؤسنگ اسکیم کے تحت زیادہ سے زیادہ شہریوں کو آسان شرائط پر قرض فراہم کریں تاکہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے ذاتی گھر کا خواب حقیقت بن سکے۔ اس سلسلے میں شرائط مزید آسان بنا دی گئی ہیں
65 سال تک کے افراد درخواست دے سکیں گے
غلام محمد عباسی کے مطابق اس اسکیم کے تحت 65 سال تک عمر رکھنے والے افراد ہاؤسنگ فنانس کے لیے درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔ اگر کسی درخواست گزار کی عمر زیادہ ہے تو وہ اپنے بچوں یا خاندان کے دیگر ملازمت پیشہ افراد کے ساتھ مشترکہ طور پر قرض کی درخواست دے سکتا ہے۔
تمام پیشوں کے افراد اہل
انہوں نے واضح کیا کہ اسکیم میں کسی بھی پیشے سے تعلق رکھنے والے افراد پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ صحافی، وکلا، ججز، اساتذہ، سرکاری ملازمین، فوجی اہلکار، کاروباری افراد، نجی ملازمین، مزدور اور دیگر تمام شعبوں سے وابستہ افراد اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں بشرطیکہ ان کے نام پر پہلے سے کوئی گھر نہ ہو۔
اوورسیز پاکستانی بھی اہل
اسٹیٹ بینک کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانی (اوورسیز پاکستانی) بھی وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت ہاؤسنگ فنانس حاصل کر سکتے ہیں۔
ایک قرض کے لیے چار افراد مشترکہ درخواست دے سکیں گے
اسکیم کے تحت ایک ہاؤسنگ قرض کے لیے زیادہ سے زیادہ چار افراد مشترکہ درخواست دے سکتے ہیں تاکہ قرض کی ادائیگی کی اہلیت بہتر بنائی جا سکے۔ اس سہولت سے ایسے خاندان بھی فائدہ اٹھا سکیں گے جن کی آمدنی ایک فرد کے بجائے کئی افراد پر مشتمل ہو۔
غلام محمد عباسی نے کہا کہ اس اسکیم میں تنخواہ دار اور بغیر تنخواہ سلپ رکھنے والے افراد دونوں درخواست دے سکتے ہیں۔ ماہانہ آمدنی کی کوئی مخصوص حد مقرر نہیں کی گئی تاہم قرض کی منظوری درخواست گزار کی ادائیگی کی صلاحیت کو دیکھ کر دی جائے گی۔
قسط تنخواہ کے 65 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی
انہوں نے بتایا کہ قرض کی ماہانہ قسط اس طرح مقرر کی جائے گی کہ وہ درخواست گزار کی مجموعی ماہانہ آمدنی کے 65 فیصد سے زیادہ نہ ہو۔ اگر کسی شخص کی اضافی آمدنی کے ذرائع بھی ہوں تو انہیں بھی مدنظر رکھا جائے گا۔
حکومت کا بڑا ہدف
اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2026-27 کے دوران ڈیڑھ لاکھ (150,000) ہاؤسنگ قرضے جاری کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت نے اس مقصد کے لیے موجودہ مالی سال میں 71 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی ہے۔
پہلے 10 سال صرف 5 فیصد شرح منافع
غلام محمد عباسی نے بتایا کہ ستمبر 2025 میں اسکیم میں اہم تبدیلیاں کی گئی تھیں جن کے تحت:
قرض کی زیادہ سے زیادہ حد ایک کروڑ روپے مقرر کی گئی۔
پہلے 10 سال تک قرض پر صرف 5 فیصد رعایتی شرح منافع رکھی گئی۔
اگر قرض 20 سال کے لیے لیا جائے تو آخری 10 سال میں مارکیٹ ریٹ کے مطابق منافع لاگو ہوگا۔
بینک کوئی پروسیسنگ فیس نہیں لیں گے
انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت قرض کی درخواست جمع کرانے پر بینک کسی قسم کی پروسیسنگ فیس وصول نہیں کریں گے تاکہ شہری بلاجھجک درخواست دے سکیں۔
مارچ 2025 سے اب تک 107,000 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔
ان میں سے تقریباً 80 فیصد درخواستیں ستمبر 2025 کے بعد جمع ہوئیں۔
27 ہزار سے زائد درخواستیں منظور کی جا چکی ہیں۔
تقریباً 13 ہزار درخواستیں مختلف وجوہات کی بنا پر مسترد کی گئیں۔
30 جون 2026 تک 6 ہزار سے زائد قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔
ان قرضوں کا اوسط حجم 48 لاکھ روپے رہا۔
مجموعی طور پر 26 ارب روپے سے زائد کے قرضے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
ہاؤسنگ فنانس کا مجموعی حجم
اسٹیٹ بینک کے مطابق 30 جون 2026 تک ملک میں ہاؤسنگ فنانس کے 293 ارب روپے کے قرضے زیر گردش تھے جو 65 ہزار 414 قرض لینے والوں کو فراہم کیے گئے۔ فی قرض اوسط رقم تقریباً 45 لاکھ روپے بنتی ہے۔
آن لائن درخواستوں کا رجحان بڑھ گیا
غلام محمد عباسی نے بتایا کہ اس وقت 70 سے 80 فیصد درخواستیں آن لائن جمع کرائی جا رہی ہیں۔ حکومت جلد وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے لیے ایک مخصوص آن لائن پورٹل متعارف کرانے جا رہی ہے، جس کے بعد درخواست کا عمل مزید آسان اور شفاف ہو جائے گا۔
حکومت بینکوں کا خطرہ بھی برداشت کرے گی
انہوں نے کہا کہ حکومت نے بینکوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ہاؤسنگ فنانس میں ممکنہ نقصانات کا ابتدائی 10 فیصد حکومت خود برداشت کرے گی جس سے بینکوں کو زیادہ سے زیادہ قرض فراہم کرنے میں سہولت ملے گی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق اس وقت پاکستان میں ہاؤسنگ فنانس کے نان پرفارمنگ لونز (NPLs) کی شرح صرف 5.6 فیصد ہے جو اس شعبے میں نسبتاً بہتر کارکردگی کو ظاہر کرتی ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے ذریعے لاکھوں پاکستانی خاندان اپنے ذاتی گھر کا خواب پورا کر سکیں گے اور ملک میں ہاؤسنگ سیکٹر تعمیرات اور روزگار کے مواقع میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔