خطے کی کشیدگی اور معاشی دباؤ، ایرانی ریال خریدنے والوں کے لیے اہم خبر

خطے کی کشیدگی اور معاشی دباؤ، ایرانی ریال خریدنے والوں کے لیے اہم خبر

ایران کی موجودہ معاشی صورتحال اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ایرانی ریال شدید دباؤ کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں کرنسی کی قدر میں مسلسل اور نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

معاشی مشکلات، عالمی دباؤ اور غیر یقینی حالات نے ایرانی کرنسی مارکیٹ کو متاثر کیا ہے، جہاں ریال کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے۔

ایران کے مرکزی بینک (سی بی آئی) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر، یورو اور پاکستانی روپے سمیت 44 بین الاقوامی کرنسیاں ایرانی ریال کے مقابلے میں مزید مضبوط ہو گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صرف دو کرنسیوں کی قدر میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ بیشتر عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ایرانی ریال کمزور ہوا ہے۔

مرکزی بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ایک امریکی ڈالر کی سرکاری قیمت بڑھ کر 14 لاکھ 14 ہزار 300 ریال تک پہنچ گئی ہے تاہم اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت مزید بلند سطح پر موجود ہے، جہاں ایک امریکی ڈالر 19 لاکھ 20 ہزار سے 19 لاکھ 50 ہزار ایرانی ریال کے درمیان خرید و فروخت ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :ایرانی ریال خرید لیں یا انتظار کریں؟ خریدار کو کتنا فائدہ ہوسکتا ہے ، خبر آگئی

دوسری جانب پاکستانی روپے کے مقابلے میں بھی ایرانی ریال کی قدر میں تبدیلی ریکارڈ کی گئی ہے،  مرکزی بینک کے مطابق 100 پاکستانی روپے کی سرکاری قدر بڑھ کر 5 لاکھ 9 ہزار 182 ریال ہو گئی ہے، جس کے مطابق ایک پاکستانی روپیہ تقریباً 5 ہزار 92 ایرانی ریال کے برابر بنتا ہے۔

پاکستان کی مقامی اوپن مارکیٹ میں بھی ایرانی ریال کی قدر میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے ، جون کے دوران ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت 8 سے 9 ہزار پاکستانی روپے تک تھی، جو اب کم ہو کر تقریباً 4 ہزار 500 سے 5 ہزار پاکستانی روپے تک رہ گئی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق کرنسی کی قدر میں یہ کمی ایران کو درپیش مالی دباؤ اور علاقائی صورتحال کی پیچیدگیوں کی عکاسی کرتی ہے، جس کے اثرات ملکی معیشت اور عوامی زندگی پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

editor

Related Articles