بغیر کارآمد ویزا پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کے خلاف مقررہ مہلت ختم ہونے کے بعد ملک بھر میں کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق راولپنڈی میں 4 جولائی سے 25 جولائی تک کارروائیوں کے دوران 158 افغان شہریوں کو حراست میں لیا گیا، جنہیں مزید جانچ پڑتال کے لیے کیمپ منتقل کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق کیمپوں میں تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد متعدد افغان شہریوں کو واپس ان کے وطن بھیجا جا چکا ہے، جبکہ دیگر افراد کے کوائف کی جانچ پڑتال جاری ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بغیر ویزا یا غیر مؤثر دستاویزات کے پاکستان میں رہنے والے افغان شہریوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی، جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی گرفتاری اور ملک بدری کا عمل جاری رہے گا،حکام کے مطابق کارروائیوں، گرفتاریوں اور دیگر پیش رفت سے متعلق روزانہ رپورٹ وزارت داخلہ کو بھجوائی جائے گی۔
وزارت داخلہ کی جانب سے صوبائی حکومتوں، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد انتظامیہ کو غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کے خلاف اقدامات تیز کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں قیام کے لیے قانونی دستاویزات رکھنے والے غیر ملکی شہریوں کے معاملات قانون کے مطابق دیکھے جائیں گے، جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔