ایران امریکہ تنازع ، پاکستان کی کوششیں ایک مرتبہ پھر رنگ لے آئیں ،ایران نے پاکستان کو پیغام دیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مذاکراتی عمل سے دستبردار نہیں ہوا بلکہ اسے عارضی طور پر معطل کیا گیا ہے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت بات چیت اسی مرحلے سے دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ ہے جہاں یہ سلسلہ رکا تھا۔
سعودی نشریاتی ادارے العربیہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی ذرائع نے بتایا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں منعقد ہو سکتا ہے۔ ایران نے پاکستانی حکام کو آگاہ کیا ہے کہ وہ مذاکرات جاری رکھنا چاہتا ہے تاہم اس کے لیے بعض اہم نکات پر پہلے پیش رفت ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں نئی گزرگاہ کے قیام کو قبول نہیں کیا جائے گا اور آئندہ مذاکرات میں سب سے پہلے اسی معاملے پر بات ہونی چاہیے۔ اس کے بعد منجمد ایرانی اثاثوں اور پھر جوہری پروگرام سے متعلق امور پر مذاکرات آگے بڑھائے جائیں۔
دوسری جانب امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوج کو ایران پر کوئی نیا حملہ نہ کرنے کا حکم دیا ہے جس کے بعد تقریباً دو ہفتوں سے جاری روزانہ حملوں کا سلسلہ رک گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ مسلسل 13 روز تک حملوں کی منظوری کے بعد سامنے آیا تاہم یہ واضح نہیں کہ حملوں میں یہ وقفہ عارضی ہے یا مستقل پالیسی کا حصہ ہے ۔ ایگزیوس کے مطابق اگر صدر ٹرمپ دوبارہ کارروائی کا حکم دیتے ہیں تو امریکی فوج مختصر نوٹس پر دوبارہ متحرک ہو سکتی ہے جبکہ فوجی منصوبہ بندی بدستور جاری ہے۔