ڈراما ’ڈاکٹر بہو‘  کی آخری قسط سے قبل بڑا موڑ، ناظرین کے دل دہل گئے

ڈراما ’ڈاکٹر بہو‘  کی آخری قسط سے قبل بڑا موڑ، ناظرین کے دل دہل گئے

مقبول ڈراما سیریل ’ڈاکٹر بہو’ کی سیکنڈ لاسٹ قسط نےثانیہ اور سلمان کی زندگی میں ایک سنگین موڑ دکھا کر ناظرین کو حیران کر دیا ہے۔ ڈرامے کا اختتامی مرحلہ قریب آتے ہی کہانی نے ایسا رخ اختیار کیا جس نے سوشل میڈیا پر بھی گرما گرم بحث چھیڑ دی۔

‘ڈاکٹر بہو’ مصنفہ ثنم مہدی زریاب کے قلم اور ہدایتکار مہرین جبار کی نگرانی میں تیار کیا گیا ڈراما ہے، جس نے اپنی نشریات کے دوران متعدد اہم سماجی موضوعات کو موضوع بحث بنایا۔

ورکنگ خواتین پر جبر سے لے کر خودپسند شوہروں کے رویوں اور بے وفائی جیسے حساس مسائل کو ڈرامے میں مؤثر انداز میں پیش کیا گیا، جس کی وجہ سے یہ سیریل ابتدا ہی سے ناظرین میں مقبول رہا۔

سیکنڈ لاسٹ قسط میں کیا ہوا؟

تازہ ترین قسط میں دکھایا گیا کہ ثانیہ نے اپنے شوہر کو خوش رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، تاہم بدلے میں اسے مسلسل ذہنی دباؤ اور ایک انتہائی خطرناک ڈلیوری کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں:کبریٰ خان کے لیے شرمیلا ٹیگور کا پیار بھرا انداز،ویڈیو وائرل

ثانیہ شدید ذہنی و جسمانی تکلیف کے دوران اپنے بچے کو جنم دیتی ہے اور اس کے بعد وینٹی لیٹر پر منتقل ہو جاتی ہے۔

اس نازک صورتحال میں سلمان کو اپنی حاملہ بیوی کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر شدید احساسِ ندامت ہوتا ہے اور وہ آنسو بہاتا دکھائی دیتا ہے۔ تاہم کہانی اس حقیقت کو بھی بے نقاب کرتی ہے کہ وقت گزر جانے کے بعد محض پچھتاوا حالات کو نہیں بدل سکتا۔

ناظرین کا شدید ردعمل

اس منظر نے سوشل میڈیا صارفین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ یہ کہانی محض ایک ڈرامائی کردار کی نہیں بلکہ ایسے ‘اکثریتی دیسی شوہروں’ کی عکاسی ہے جو اپنی غلطیوں کا احساس اسی وقت کرتے ہیں جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ‘بہت سے شوہروں کو اپنی بیویوں کو کھو دینے کے بعد بھی احساس نہیں ہوتا’۔ دوسرے صارف نے کہا کہ ‘سلمان کی اداکاری بہترین ہے مگر ہم اس کے کردار کے ساتھ ہمدردی محسوس نہیں کر سکتے’۔ ایک اور ناظر نے لکھا کہ ‘اب سلمان کو احساس ہو رہا ہے کہ اس نے ثانیہ پر کس قدر ظلم کیا’۔

‘ڈاکٹر بہو’ کیوں اہم ڈراما رہا؟

پاکستانی ڈراما انڈسٹری میں گھریلو مسائل اور ازدواجی رشتوں کی پیچیدگیوں پر مبنی کہانیاں ہمیشہ سے ناظرین کی خاصی توجہ حاصل کرتی رہی ہیں، تاہم ‘ڈاکٹر بہو’ نے ورکنگ ویمن کو درپیش مشکلات کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا، جو اسے دیگر روایتی ڈراموں سے مختلف بناتا ہے۔

مزید پڑھیں:اسٹیج، فلم اور ڈراما کا درخشاں چراغ بجھ گیا، عہد ساز اداکار طویل علالت کے بعد دنیا سے رخصت

ثانیہ کا کردار ایک ایسی خاتون کی نمائندگی کرتا رہا جو پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور گھریلو دباؤ کے درمیان مسلسل توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتی رہی، جبکہ سلمان کا کردار معاشرے کے اس مخصوص طبقے کی عکاسی کرتا ہے جو اپنی انا اور خودپسندی کے باعث اپنی شریکِ حیات کی قدر نہیں کر پاتا۔

کیا یہ کہانی محض ڈراما ہے یا معاشرتی حقیقت؟

‘ڈاکٹر بہو’ کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس نے فرضی کرداروں کے ذریعے حقیقی زندگی کے مسائل کو بلاجھجک بیان کیا۔ ثانیہ اور سلمان کی کہانی محض ایک تفریحی ڈراما نہیں بلکہ ایسے متعدد گھرانوں کی جھلک ہے جہاں خواتین کو کام اور گھر دونوں محاذوں پر ثابت قدم رہنا پڑتا ہے، جبکہ ان کی قربانیوں کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

سلمان کے کردار پر ناظرین کا شدید ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوام اب ایسے کرداروں کو محض ہمدردی کی نظر سے نہیں دیکھتے بلکہ ان کے رویے پر سوال اٹھاتے ہیں۔

یہ رجحان اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ پاکستانی ڈراما بینی رفتہ رفتہ زیادہ باشعور ہوتی جا رہی ہے اور تماشائی اب محض جذباتی مناظر پر آنسو بہانے کے بجائے کرداروں کے اخلاقی پہلوؤں پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔

آخری قسط میں ثانیہ کی صحت یابی یا اس کے برعکس کوئی بڑا سانحہ، دونوں ہی صورتوں میں یہ ڈراما ناظرین کے ذہنوں پر دیرپا اثر چھوڑ جانے کا امکان رکھتا ہے۔ث

Related Articles