پاکستان نے معرکہ حق میں بھارت کو شکست دی،بھارتی صحافی اجے شکلا کا آذاد ڈیفنس سے گفتگو میں اعتراف

پاکستان نے معرکہ حق میں بھارت کو شکست دی،بھارتی صحافی اجے شکلا کا آذاد ڈیفنس سے گفتگو میں اعتراف

بھارتی صحافی اور دفاعی تجزیہ کار اجے شکلا نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی پالیسیوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی نے ٹرمپ کے سامنے جھکنے کے باوجود بھارت کیلئے کوئی بڑا فائدہ حاصل نہیں کیا ان کا کہنا ہے کہ بھارت کو امریکی پالیسیوں کے نتیجے میں شدید معاشی اور سفارتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بھارتی دفاعی تجزیہ کار اور صحافی اجے شکلا نے نریندر مودی حکومت کی خارجہ پالیسی، معاشی صورتحال، دفاعی پیداوار، چین سے تعلقات اور گودی میڈیا کے کردار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی اجلاسوں کو بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کے باوجود عام بھارتی شہری کو ان سرگرمیوں کا کوئی واضح معاشی فائدہ نظر نہیں آتا۔

برکس سے عوام کو کیا ملا؟

اجے شکلا نے کہا کہ برکس جیسے عالمی فورمز کی میزبانی کو مودی حکومت کی بڑی سفارتی فتح قرار دیا جا رہا ہے، تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ ان اجلاسوں سے ہندوستانی عوام کو عملی طور پر کیا حاصل ہوا۔

 اپوزیشن اور صحافیوں کا یہ سوال بالکل جائز ہے کہ عالمی اتحاد اور بین الاقوامی اجلاس اگر عوام کے مفاد میں ہیں تو ان کے نتیجے میں روزگار، صنعت اور معیشت کے لیے کیا ٹھوس پیش رفت ہوئی۔

میزبانی کو کامیابی قرار دینے پر اعتراض

اجے شکلا نے برکس کی میزبانی کو مودی کی ذاتی کامیابی قرار دینے پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اجلاسوں کی میزبانی ایک طے شدہ اور روٹیشنل طریقہ کار کے تحت ہوتی ہے، اس لیے اسے غیر معمولی انتخابی یا سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرنا درست نہیں،انہوں نے کہا کہ جی 20 اجلاس کے دوران بھی بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی اور اب برکس کے حوالے سے بھی اسی انداز کی سیاسی تشہیر دکھائی دے رہی ہے۔

مودی کو ’’وشو گرو‘‘ بنانے کی کوشش؟

اجے شکلا کے مطابق بھارتی حکومت کے وزراء اور حامی حلقے ہر عالمی اجلاس کے بعد نریندر مودی کو ’’وشو گرو‘‘ قرار دیتے ہیں، لیکن اصل توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ ان اجلاسوں سے ملکی معیشت اور عام شہری کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی،ان کا کہنا تھا کہ عوام کے ٹیکس سے ہونے والے اخراجات کا حساب بھی ہونا چاہیے اور یہ دیکھنا ضروری ہے کہ بین الاقوامی تقریبات محض سیاسی تشہیر تک محدود تو نہیں رہ گئیں۔

معیشت اور روزگار پر سوال

اجے شکلا نے بھارتی معیشت کی صورتحال پر بھی سخت اعتراضات کیےکہا کہ مینوفیکچرنگ کے شعبے کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ چین سے آنے والی مصنوعات نے بھارتی صنعت کے لیے مسائل پیدا کیے ہیں،انہوں نے کہا کہ بے روزگاری کی صورتحال تشویشناک ہے اور معمولی تنخواہ والی ملازمتوں کے لیے بھی بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ نوجوان درخواستیں دیتے ہیں۔ ان کے بقول صرف چند ارب پتیوں کی دولت کو دیکھ کر پورے ہندوستان کے خوشحال ہونے کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔

سرکاری اعداد و شمار پر اعتراض

اجے شکلا نے بھارتی حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے معاشی اعداد و شمار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت اپنی کارکردگی بہتر دکھانے کے لیے اعداد و شمار کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کرتی رہی ہے،انہوں نے مہنگائی اور بے روزگاری کو عام شہریوں کے لیے بڑے مسائل قرار دیا اور کہا کہ معاشی ترقی کے سرکاری دعووں کو زمینی حقائق کی روشنی میں جانچنے کی ضرورت ہے۔

امریکہ سے تعلقات پر بھی تنقید

گفتگو کے دوران اجے شکلا نے امریکہ کے ساتھ مودی حکومت کے تعلقات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کیں، لیکن اس کے باوجود امریکہ سے بھارتی شہریوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے دور میں ایک لاکھ سے زائد بھارتی شہریوں کو امریکہ سے واپس بھیجا جا چکا ہے اور سوال اٹھایا کہ اگر دونوں ممالک کے تعلقات اتنے مضبوط ہیں تو بھارتی شہریوں کے لیے ایسی صورتحال کیوں پیدا ہوئی۔

میڈیا پر حکومت کی گرفت کا الزام

اجے شکلا نے بھارتی میڈیا کے کردار پر بھی سخت اعتراض کیا۔ ان کے مطابق بعض میڈیا ادارے حکومت کی کارکردگی اور نریندر مودی کی عالمی حیثیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، جبکہ عوام کو درپیش معاشی مسائل پر مطلوبہ توجہ نہیں دی جاتی۔

انہوں نے کہا کہ جو میڈیا حکومت پر سخت سوالات اٹھاتا ہے، اسے مختلف سرکاری اداروں کی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے بقول اس ماحول کے باعث کئی صحافیوں نے ایسے اداروں سے علیحدگی اختیار کی۔

’’میک ان انڈیا‘‘ پر بڑا سوال

دفاعی پیداوار کے حوالے سے اجے شکلا نے ’’میک ان انڈیا‘‘ اور ’’آتم نربھر بھارت‘‘ کے دعووں پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سے دفاعی سازوسامان اور ٹیکنالوجی حاصل کرکے بھارت میں اس پر مقامی پیداوار کا لیبل لگانے سے مکمل خود انحصاری حاصل نہیں ہوتی،انہوں نے اسرائیلی ہتھیاروں اور رافیل طیاروں کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ دفاعی شعبے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور حقیقی مقامی پیداوار کے بجائے تشہیر پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔

چین سے تعلقات پر تنقید

اجے شکلا نے چین کے ساتھ بھارتی تعلقات کو بھی متضاد قرار دیا۔ ان کے مطابق ایک طرف چین کو بڑا حریف قرار دیا جاتا ہے، جبکہ دوسری جانب دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور اعلیٰ سطحی ملاقاتیں بھی جاری رہتی ہیں،انہوں نے گلوان وادی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سرحدی کشیدگی کے باوجود چین کے ساتھ کاروباری تعلقات برقرار رکھنا کئی سوالات پیدا کرتا ہے۔

مودی کی خارجہ پالیسی ناکام قرار

اجے شکلا نے نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت بھارت کو عالمی طاقت اور عالمی رہنما کے طور پر پیش کرتی ہے، لیکن کئی اہم عالمی معاملات میں نئی دہلی اپنی مرضی کا کردار ادا کرنے میں ناکام رہی۔

ان کے مطابق ایران، امریکہ اور دیگر عالمی تنازعات میں پاکستان نے بعض مواقع پر زیادہ فعال سفارتی کردار ادا کیا، جس سے بھارتی حکومت کے عالمی اثر و رسوخ کے دعووں پر سوال اٹھتے ہیں۔

’سرینڈر مودی‘‘ کا طنزیہ لقب

اجے شکلا نے گفتگو کے دوران مودی کے لیے ’’سرینڈر مودی‘‘ کی طنزیہ اصطلاح بھی استعمال کی اورکہا کہ بعض طاقتور عالمی رہنماؤں کے سامنے بھارتی وزیراعظم کا موقف اتنا مضبوط دکھائی نہیں دیتا بلکہ مودی ان سے ڈرتا ہے ۔

انہوں نے خاص طور پر امریکہ، اسرائیل اور چین کے حوالے سے مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر طاقتور ملکوں کے ساتھ تعلقات میں بھارت کو اپنے قومی مفادات کو زیادہ واضح انداز میں سامنے رکھنا چاہیے۔

پاکستان کے کردار کا اعتراف

گفتگو میں پاکستان کے حوالے سے بھی اجے شکلا نے کہا کہ بعض عالمی معاملات، بالخصوص ایران اور امریکہ سے متعلق سفارتی کوششوں میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیاان کے مطابق بھارت خود کو عالمی رہنما کے طور پر پیش کرتا ہے، تاہم عالمی امن اور تنازعات کے حل کے لیے عملی سفارتی کردار کے حوالے سے پاکستان کی کوششیں زیادہ نمایاں نظر آئیں۔

عوامی مفاد اصل پیمانہ قرار

اجے شکلا نے اپنی گفتگو کے اختتام پر زور دیا کہ کسی بھی حکومت کی کامیابی کا اصل پیمانہ عالمی اجلاسوں کی تعداد، بڑے رہنماؤں سے ملاقاتیں یا میڈیا میں تشہیر نہیں بلکہ عوام کی معاشی حالت، روزگار، صنعت، مہنگائی اور قومی سلامتی ہے۔

  اگر عام شہری کو روزگار نہیں مل رہا، صنعت مشکلات کا شکار ہے اور مہنگائی عوام کی زندگی متاثر کر رہی ہے تو صرف عالمی اجلاسوں اور سفارتی تصاویر کو کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

editor

Related Articles