آزاد کشمیر انتخابات میں ن لیگ 8 نشستیں جیتنے کی پوزیشن میں ہے،رانا ثناء اللہ کا دعویٰ

آزاد کشمیر انتخابات میں ن لیگ 8 نشستیں جیتنے کی پوزیشن میں ہے،رانا ثناء اللہ کا دعویٰ

وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر انتخابات کے غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کئی نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے اور انہیں امید ہے کہ پارٹی 8 نشستوں پر کامیابی حاصل کر لے گی۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ 50 سے 60 فیصد نتائج موصول ہو چکے ہیں، 7 نشستوں پر ہم آگے جبکہ 3 نشستوں پر پیچھے ہیں، باقی 3 نشستوں پر مقابلہ انتہائی قریب ہے، انہوں نے کہا کہ میرے مطابق مسلم لیگ (ن) کو 8 نشستوں پر کامیابی ملے گی۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں فیئر اینڈ فری انتخابات ہوئے ہیں، تاہم ایک امیدوار کے حلقے میں پٹواری انچارج نے دو ریٹرننگ افسران کو بٹھایا، جس پر ہمارے لوگوں نے اعتراض کیا۔

انہوں نے کہا کہ معاملہ الیکشن کمیشن کو رپورٹ کیا گیا، جس کے بعد متعلقہ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی اور گرفتاری بھی عمل میں آئی، اس معاملے کی مزید تحقیقات ہونی چاہئیں۔

یہ بھی پڑھیں :الیکشن جیتے تو آزاد کشمیر کا وزیر اعظم بننا چاہوں گا، نواز شریف

انہوں نے کہا کہ ایک کارکن جاں بحق ہوا ہے، ہمارے لوگ اسے اپنا کارکن جبکہ پیپلز پارٹی والے اپنا کارکن قرار دے رہے ہیں، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ جاں بحق کارکن کس جماعت سے تعلق رکھتا تھا، جبکہ ایک کارکن زخمی بھی ہوا ہے۔

سینیٹر رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے حالات کا حل صرف آزادانہ اور شفاف انتخابات ہیں، انہوں نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے لوگ ہمارے بھائی ہیں، ان کے کئی مطالبات تسلیم کیے گئے، تاہم آئینی مطالبات حکومت کے اختیار میں نہیں تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کو انتخابات میں حصہ لینا چاہیے تھا، ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں سادہ اکثریت حاصل کر لے گی، جبکہ کوٹلی اور نکیال میں نوجوانوں نے باہر نکل کر مسلم لیگ (ن) کو سپورٹ کیا ہے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر مظاہرین نے مظفرآباد کی طرف مارچ کیا تو انہیں روکا جائے گا، اسی طرح پونچھ ڈویژن میں بھی احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی، 38 لاکھ ووٹرز میں سے 55 فیصد کشمیری عوام نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سازی کے لیے ضرورت پڑی تو دیگر جماعتوں کو ساتھ ملایا جائے گا اور آزاد کشمیر اسمبلی میں اکثریت حاصل کرکے حکومت بنائیں گے، تاہم انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی 11 نشستیں جیب میں ہونے کی بات نہیں کی، حلقے کا فیصلہ ہی اصل ہوتا ہے اور وہ سروے پر یقین نہیں رکھتے۔

editor

Related Articles