میچ ہار گئے،رضا اللہ نے دل جیت لیے، ڈیبیو ٹیسٹ میں ریکارڈ ساز کارکردگی

میچ ہار گئے،رضا اللہ نے دل جیت لیے، ڈیبیو ٹیسٹ میں ریکارڈ ساز کارکردگی

پاکستانی کرکٹ ٹیم اگرچہ میچ میں کامیابی حاصل نہ کرسکی، تاہم ڈیبیو کرنے والے نوجوان فاسٹ باؤلر رضا اللہ نے اپنی شاندار کارکردگی سے سب کی توجہ حاصل کرلی، نوجوان کرکٹر نے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں شعبوں میں بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی آمد کا شاندار انداز میں اعلان کردیا۔

رضا اللہ نے مشکل صورتحال میں ذمہ داری سنبھالتے ہوئے صرف 63 گیندوں پر 81 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی،ان کی باری میں 9 چھکے اور 4 چوکے شامل تھے،ان کی تیز رفتار بیٹنگ نے پاکستان کو اننگز کی شکست کے خطرے سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا، نوجوان بلے باز نے دباؤ کے باوجود بڑے شاٹس کھیلنے سے گریز نہیں کیا اور اپنی پہلی ہی ٹیسٹ اننگز میں حریف ٹیم کے باؤلرز کو مشکل میں ڈال دیا۔

ڈیبیو پر ریکارڈ

رضا اللہ نے اپنے پہلے ٹیسٹ میچ میں کئی نمایاں ریکارڈز بھی قائم اور برابر کیے، انہوں نے ڈیبیو ٹیسٹ میں قومی سطح پر تیز ترین نصف سنچری بنانے کا اعزاز حاصل کیا،اس کے علاوہ انہوں نے ڈیبیو ٹیسٹ کی ایک اننگز میں 9 چھکے لگانے کے عالمی ریکارڈ کی بھی برابر کردیا ، نوجوان کرکٹر نے نویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے ایک اننگز میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ بھی برابر کیا۔

باؤلنگ میں بھی کمال

رضا اللہ صرف بلے سے ہی نمایاں نہیں ہوئے بلکہ گیند کے ساتھ بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا، تیز رفتار باؤلنگ کرتے ہوئے انہوں نے پورے میچ میں 4 وکٹیں حاصل کیں،ان کی باؤلنگ کا سب سے نمایاں لمحہ میچ کے ابتدائی مرحلے میں سامنے آیا جب انہوں نے انگلینڈ کے کپتان جو روٹ کو اپنے پہلے ہی اوور میں آؤٹ کرکے پویلین واپس بھیج دیا۔

پہلے ہی میچ میں دھاک

ڈیبیو ٹیسٹ میں بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں میں مؤثر کارکردگی نے رضا اللہ کو سب کی توجہ کا مرکز بنا دیا، کرکٹ شائقین اور مبصرین نے نوجوان کھلاڑی کی جارحانہ بیٹنگ، تیز رفتار باؤلنگ اور دباؤ میں کھیلنے کی صلاحیت کو سراہا،ان کی کارکردگی اس لحاظ سے بھی اہم قرار دی جارہی ہے کہ انہوں نے قومی ٹیم میں اپنی جگہ بنانے کے فوراً بعد بڑے مقابلے میں صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔

گلی کی کرکٹ سے سفر

رضا اللہ کا قومی ٹیم تک پہنچنے کا سفر بھی نوجوان کرکٹرز کے لیے حوصلہ افزا مثال ہے، مردان سے تعلق رکھنے والے رضا اللہ نے گلی کی کرکٹ سے کھیل کا آغاز کیا اور مسلسل محنت، لگن اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے بعد قومی سطح تک رسائی حاصل کی،ان کی کامیابی اس بات کی عکاس ہے کہ محدود وسائل سے آغاز کرنے والا باصلاحیت کھلاڑی بھی مسلسل محنت کے ذریعے بڑے پلیٹ فارم تک پہنچ سکتا ہے۔

والد بھی خوشی سے نہال

رضا اللہ کی شاندار کارکردگی پر ان کے والد محمد یار نے بھی خوشی کا اظہار کیا، بیٹے کو قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے اور ڈیبیو میچ میں نمایاں کارکردگی دکھاتے دیکھنا ان کے لیے فخر کا لمحہ تھا۔

رضا اللہ کی یہ کارکردگی اگرچہ پاکستان کو میچ میں کامیابی نہ دلاسکی، تاہم نوجوان فاسٹ باؤلر نے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں ایسی پرفارمنس پیش کردی جس نے انہیں شائقین کی نظروں میں نمایاں کردیا ہے۔

editor

Related Articles