پیٹرول کیوں مہنگا؟، کس کی نا اہلی، شاہد آفریدی بھی برس پڑے

پیٹرول کیوں مہنگا؟، کس کی نا اہلی، شاہد آفریدی بھی برس پڑے

سابق قومی کرکٹ کپتان شاہد آفریدی نے پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کو حکومتی نااہلی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس اہداف کی ناکامی کا بوجھ غریب عوام پر ڈالنا سراسر ناانصافی ہے۔

انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ہوشربا مہنگائی کے مارے عوام کے لیے فوری ریلیف کا اعلان کیا جائے۔

واضح رہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر سیاسی اور سماجی حلقوں کے بعد اب معروف شخصیات بھی تشویش کا اظہار کرنے لگی ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنی پوسٹ میں شاہد آفریدی نے موجودہ معاشی صورتحال پر سخت ردعمل دیا ہے اور اس کا قصور وار حکومت کو ٹھہرایا ہے۔

نااہلی کا بوجھ عوام پر ڈالنا بند کیا جائے

شاہد آفریدی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے پیٹرول پر بھاری ٹیکس عائد کر کے تمام تر رقم عام شہریوں کی جیبوں سے نکالی جا رہی ہے۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جب بھی حکومت کے اپنے مقرر کردہ ٹیکس اکٹھا کرنے کے اہداف پورے نہیں ہوتے، تو اس ناکامی کا تمام تر بوجھ غریب عوام کے کاندھوں پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:شاہد خان آفریدی نے بڑی خواہش کا اظہار کر دیا

سابق کپتان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں حالیہ اضافہ کسی طور پر عالمی حالات کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ براہ راست حکومتی اور انتظامی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مہنگائی اور عام آدمی کی بقا کا مسئلہ

عوام کی ابتر معاشی حالت کا تذکرہ کرتے ہوئے شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے عوام کو پہلے ہی شدید ذہنی اور مالی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہوشربا مہنگائی نے اب عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کمانا بھی محال بنا دیا ہے۔ ایسے سنگین حالات میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ عوام کی مشکلات کو کئی گنا بڑھا دے گا۔

حکمرانوں سے عوام دوست پالیسیوں کا مطالبہ

سابق کپتان نے اربابِ اختیار پر زور دیا کہ وہ اپنی پالیسیوں اور انتظامی کمزوریوں کا ملبہ عوام پر گرانے کے بجائے ایسے عملی اقدامات کریں جن سے نچلے طبقے کو حقیقی ریلیف مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ مشکل میں گھرے عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرنے کے بجائے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرے اور عوام دوست پالیسیاں اپنائے۔

پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اور ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

مزید پڑھیں:اگر عمران خان نہ ہوتے تو میں کرکٹ کی دنیا میں قدم نہ رکھتا، شاہد آفریدی

حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اضافے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی کڑی شرائط اور محصولات کے اہداف پورے کرنے کے باعث ناگزیر ہیں۔

تاہم اس کے براہِ راست نتیجے میں ملک میں مہنگائی کی شرح میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جس سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خوردونوش اور بجلی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

عوام کی قوتِ خرید جواب دے چکی ہے اور معاشرے کے ہر طبقے میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔

شاہد آفریدی کے اس بیان کا جائزہ لیا جائے تو یہ محض ایک سابق کرکٹر کا ردعمل نہیں، بلکہ ملک کے ایک بہت بڑے طبقے کے دل کی آواز ہے۔

شاہد آفریدی اپنی فلاحی تنظیم کے ذریعے گراس روٹ لیول پر کام کرتے ہیں، اس لیے وہ عام آدمی کی معاشی تکالیف اور زمینی حقائق کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

ان کا یہ بیان اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت کا بالواسطہ ٹیکسوں، بالخصوص پیٹرولیم لیوی پر انحصار ایک ناکام معاشی ماڈل بن چکا ہے۔

جب اشرافیہ اور بڑے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے بجائے سارا بوجھ پیٹرول کی قیمت بڑھا کر وصول کیا جائے گا، تو اس سے معیشت کا پہیہ رک جائے گا۔

حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوامی سطح پر عدم اطمینان اب خطرے کے نشان کو چھو رہا ہے، اور اگر فوری طور پر انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کر کے عوام کو حقیقی ریلیف نہ دیا گیا، تو یہ معاشی بحران ایک بڑے سماجی بگاڑ کو جنم دے سکتا ہے۔

Related Articles