نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے، مردم شماری اور ووٹر لسٹیں درست ہوں تو پیپلزپارٹی بھی مطالبہ کرے گی، خالد مقبول صدیقی

نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے، مردم شماری اور ووٹر لسٹیں درست ہوں تو پیپلزپارٹی بھی مطالبہ کرے گی، خالد مقبول صدیقی

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ اگر سندھ میں مردم شماری اور ووٹر فہرستیں شفاف اور درست کر دی جائیں تو پاکستان پیپلزپارٹی بھی الگ انتظامی حیثیت کے مطالبے پر مجبور ہوجائے گی، ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کو اس کا مطالبہ تسلیم کرکے اختیار دیا جائے تو وہ آئین کے آرٹیکل 140 اے پر عمل درآمد یقینی بنا دے گی۔

کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں ایم کیو ایم پاکستان کے گریجویٹ فورم کے تحت  قومی مذاکرہ منعقد کیا گیا، جس میں سیاست، معیشت، قانون، تجارت اور سماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی اور نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ ایم کیو ایم کے قیام سے پہلے ہی طلبہ تنظیم اے پی ایم ایس او کے دور سے پارٹی کے سیاسی مؤقف کا حصہ رہا ہے۔

پاکستان سب سے مقدم

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان ان کے لیے سب سے مقدم ہے جبکہ انتظامی یونٹس کا مقصد عوام کو بہتر سہولیات اور مؤثر حکمرانی فراہم کرنا ہونا چاہیے، ان کے مطابق آبادی میں اضافے کے ساتھ انتظامی نظام کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کو ان کے مسائل کے حل کے لیے بہتر نظام میسر آسکے،انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں آبادی کے تناسب اور شہری ضروریات کو پوری طرح مدنظر نہیں رکھا گیا، جس کے باعث کئی علاقوں میں مسائل بڑھتے گئے۔

شہری سندھ کا مقدمہ

ایم کیو ایم سربراہ نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں انتظامی تبدیلی کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں، تاہم شہری سندھ کا معاملہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے اہم ہے کراچی ملکی معیشت میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے لیکن اس کے باوجود شہر کو مسلسل مسائل اور محرومیوں کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے آباؤ اجداد نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں پاکستان کے قیام کے لیے ہجرت کی تھی اور یہ ملک ان کے اسلاف کی قربانیوں کا نتیجہ ہے،ان کا کہنا تھا کہ ملک کے مستقبل اور شہریوں کے حقوق کے حوالے سے فیصلے آئینی اور جمہوری طریقے سے ہونے چاہئیں۔

مردم شماری اور ووٹر فہرستیں

خالد مقبول صدیقی نے دعویٰ کیا کہ اگر سندھ میں شفاف مردم شماری کرائی جائے اور ووٹر فہرستوں کو حقیقی آبادی کے مطابق درست کیا جائے تو سیاسی منظرنامہ بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :نئے صوبے سندھ، پنجاب اور پاکستان کے مفاد میں ہیں، اس پر دو رائے نہیں: فواد چوہدری

انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں پیپلزپارٹی بھی الگ انتظامی حیثیت کے مطالبے کی طرف آ سکتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کو مطلوبہ اختیار دیا جائے تو وہ آرٹیکل 140 اے کے تحت بلدیاتی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کرے گی۔

فاروق ستار کا مؤقف

ایم کیو ایم کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ملک کے موجودہ سیاسی نظام میں اختیارات چند مخصوص خاندانوں اور مراکز تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ  اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی حکومتوں کو اختیارات منتقل ہوئے، تاہم یہ اختیارات حقیقی معنوں میں نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوسکے۔

فاروق ستار نے بتایا کہ مقامی حکومتوں کو آئینی طور پر بااختیار بنانے کے لیے آرٹیکل 140 اے کے تحت آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی میں جمع کرایا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ انتظامی تبدیلی کے معاملے پر عوامی رائے جاننے کے لیے ریفرنڈم کا راستہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔

شاہراہ فیصل پر ریلی کا اعلان

انہوں نے کہا کہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو شہری حقوق، ترقی اور بہتر حکمرانی کے لیے متحد ہونا چاہیے، ایم کیو ایم جلد شاہراہ فیصل پر ایک بڑی ریلی کے ذریعے اپنے مطالبات اجاگر کرے گی۔

وسیم اختر کی گفتگو

ایم کیو ایم کے سینئر رہنما اور سابق میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ بااختیار بلدیاتی نظام کے لیے ان کی جماعت طویل عرصے سے سیاسی اور قانونی جدوجہد کر رہی ہے،ان کا کہنا تھا کہ مقامی حکومتوں کو اختیارات دینا صرف سیاسی معاملہ نہیں بلکہ شہریوں کی بنیادی ضروریات، ترقی اور بہتر طرز حکمرانی سے براہ راست جڑا ہوا مسئلہ ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم نے بااختیار بلدیاتی نظام کے معاملے پر عدالتوں میں بھی اپنا مقدمہ پیش کیا ہے۔

کراچی کی انتظامی مشکلات

ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی جاوید حنیف نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو مؤثر اختیارات دینے سے متعلق قانون سازی کا معاملہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں موجود ہے،انہوں نے کہا کہ کراچی کو درپیش آبادی، نمائندگی اور انتظامی مسائل کا مستقل حل ضروری ہے، کیونکہ موجودہ صورتحال میں شہریوں کو کئی بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔

مفتاح اسماعیل کا مؤقف

قومی مذاکرے میں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام میں صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کو مطلوبہ اختیارات منتقل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں، ملک کے بڑے شہروں کا انتظام مقامی سطح پر منتخب نمائندوں اور شہری اداروں کے ذریعے چلایا جانا چاہیے تاکہ فیصلے عوام کی ضروریات کے مطابق کیے جا سکیں۔

تاجروں اور ماہرین کی گفتگو

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ریحان حنیف، تاجر رہنما عتیق میر اور سابق بیوروکریٹ بیرسٹر شہاب امام نے بھی تقریب سے خطاب کیا،مقررین نے کراچی کے معاشی اور انتظامی مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزگار اور سرکاری اداروں میں نمائندگی سے متعلق شکایات بھی موجود ہیں۔

شرکا نے مؤقف اختیار کیا کہ شہریوں کو ان کے آئینی اور قانونی حقوق دینے کے لیے بااختیار بلدیاتی نظام ضروری ہے اور انتظامی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اصلاحات کی جانب پیش رفت ہونی چاہیے۔

editor

Related Articles