مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر ناصر بٹ نے واضح کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران کے ساتھ کسی قسم کی کوئی ’ڈیل‘ نہیں ہوگی اور ان کی تمام تر سیاسی حکمت عملیاں ناکام ثابت ہوں گی۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ عمران خان نے جعلی میڈیکل رپورٹ کی آڑ میں اسپتال اور پھر ’بنی گالہ‘ منتقل ہونے کی مبینہ سازش تیار کی تھی جسے حکام نے بروقت ناکام بنا دیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں مسلم لیگ ن کے سینیٹر ناصر بٹ نے بانی پی ٹی آئی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کئی نئے دعوے کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت قید کاٹنے والے رہنما کی جانب سے کوئی بھی چال یا حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکے گی۔
جیل سے مبینہ سازشیں اور ڈیل کا امکان مسترد
سینیٹر ناصر بٹ نے اپوزیشن کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات یا مفاہمت کے امکان کو یکسر مسترد کر دیا۔ قید رہنما پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ بانی پی ٹی آئی نے اپنے دور اقتدار میں آخر ایسا کون سا مثبت کام کیا تھا جس کی بنیاد پر اب ان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھا جائے؟
انہوں نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں قید شخص مسلسل سازشوں کے جال بن رہا ہے۔ ناصر بٹ کے دعوے کے مطابق ماضی میں بھی بانی پی ٹی آئی نے جیل کے ایک سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی ملی بھگت سے مختلف سازشیں رچانے کی کوشش کی تھی۔
طبی بنیادوں پر منتقلی کا ناکام منصوبہ
مسلم لیگ ن کے رہنما نے اپنے انٹرویو میں ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے خرابیِ صحت کا بہانہ بنا کر اسپتال منتقل ہونے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔
ان کے بقول اس منصوبے کا حتمی مقصد اسپتال سے سیدھا ’بنی گالہ‘ منتقل ہونا تھا، تاہم متعلقہ حکام نے اس ساری چال کو ناکام بنا دیا ہے۔
مبینہ سہولت کار ڈاکٹروں کو سخت وارننگ
ناصر بٹ نے انتہائی سخت لہجہ اپناتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر کسی بھی ڈاکٹر نے بانی پی ٹی آئی کے لیے کوئی من گھڑت یا جعلی میڈیکل رپورٹ تیار کرنے میں سہولت کاری کی، تو سچائی بہت جلد سب کے سامنے آ جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ جس طرح جیل کے سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو قانون کی گرفت میں لیا گیا، بالکل اسی طرح جھوٹی رپورٹ بنانے والے ڈاکٹر کو بھی بے نقاب کر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔
البتہ انہوں نے محتاط انداز میں یہ بھی کہا کہ اگر عدالتیں کوئی اور فیصلہ دیتی ہیں تو صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان گزشتہ کئی ماہ سے مختلف مقدمات میں جیل کاٹ رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سیاسی اور صحافتی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں زور پکڑ گئی تھیں کہ شاید حکومت اور قید رہنما کے درمیان کسی قسم کی ’ڈیل‘ یا بیک ڈور رابطے جاری ہیں تاکہ سیاسی درجہ حرارت کو کم کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ، قید رہنما کی جانب سے ذاتی معالج سے چیک اپ کی درخواستوں کو حکومتی حلقے شک کی نگاہ سے دیکھتے رہے ہیں کہ شاید طبی بنیادوں پر ریلیف حاصل کر کے اسپتال یا گھر منتقل ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سینیٹر ناصر بٹ کا یہ بیان دراصل انہی افواہوں اور قیاس آرائیوں کا دو ٹوک جواب ہے۔
سیاسی امور کے ایک سینیئر تجزیہ کار کی نگاہ سے دیکھا جائے تو، سینیٹر ناصر بٹ کا یہ بیان مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کے سخت گیر بیانیے کا واضح عکاس ہے۔
حکمران جماعت یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے دباؤ یا پس پردہ مفاہمت کا حصہ نہیں بنے گی۔
میڈیکل رپورٹ اور ڈاکٹروں کو دی جانے والی کھلی وارننگ کا مقصد بیوروکریسی اور طبی عملے پر ایک نفسیاتی دباؤ برقرار رکھنا ہے تاکہ اپوزیشن رہنما کو طبی بنیادوں پر کوئی غیر معمولی رعایت نہ مل سکے۔
اس بیان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خلیج مزید گہری ہو چکی ہے اور مستقبل قریب میں کسی مفاہمت کی بجائے سیاسی محاذ آرائی میں مزید تیزی آنے کا قوی امکان ہے۔ یہ بیان ان حلقوں کے لیے بھی ایک سرخ جھنڈی ہے جو کسی بھی سطح پر ڈیل یا ثالثی کی توقع لگائے بیٹھے ہیں۔