مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت نے جہاں دنیا بھر میں نئی امیدیں پیدا کی ہیں، وہیں اس کے ممکنہ خطرات پر بھی تشویش بڑھتی جارہی ہے، معروف اے آئی کمپنی اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو داریو اموڈے نے بھی اسی تناظر میں مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار عارضی طور پر کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
خطرناک صورتحال کا خدشہ
داریو اموڈے نے خبردار کیا ہے کہ اگر اے آئی ماڈلز کی صلاحیتوں میں اضافے کا موجودہ عمل اسی رفتار سے جاری رہا تو خودکار اے آئی ایجنٹس مستقبل میں انٹرنیٹ کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
ان کے مطابق آنے والے چند ماہ میں ایسے خودکار اے آئی ایجنٹس کا بڑا نیٹ ورک وجود میں آسکتا ہے جو انسانی نگرانی سے باہر نکل جائے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ تقریباً چھ ماہ کے اندر ایسے ایجنٹس انٹرنیٹ کے مختلف حصوں پر اثر انداز ہونا شروع کرسکتے ہیں۔
بوٹ نیٹ کا خطرہ
اینتھروپک کے سربراہ نے مزید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چھ سے بارہ ماہ کے دوران ایسے اے آئی ایجنٹس کا جھنڈ مستقل بوٹ نیٹ کی شکل اختیار کرکے انٹرنیٹ کے بڑے حصے کو ہائی جیک کرسکتا ہے۔
ان کے بقول اگر ایسا منظرنامہ حقیقت بن گیا تو اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر انتہائی بڑے مالی نقصانات ہوسکتے ہیں اور نقصان کی مالیت کھربوں ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
ترقی کی رفتار کم کرنے پر زور
داریو اموڈے کا کہنا ہے کہ اے آئی کی ترقی کو مکمل طور پر روکنے کے بجائے اس کی رفتار میں کچھ کمی لانے کی ضرورت ہے تاکہ ماہرین کو حفاظتی اقدامات بہتر بنانے کے لیے مناسب وقت مل سکے،انہوں نے واضح کیا کہ ترقی کی رفتار قدرے کم ہونے کے باوجود مصنوعی ذہانت میں پیش رفت بدستور تیز رہے گی، تاہم اس اضافی وقت کو حفاظتی نظام مضبوط کرنے اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
بیرونی ماہرین کو رسائی دینے کا اعلان
اینتھروپک کے سربراہ نے بتایا کہ ان کی کمپنی حفاظتی اقدامات کی آزادانہ جانچ کے لیے بیرونی ماہرین اور جانچ کرنے والوں کو کمپنی کے نظام تک ایسی رسائی دینے کا ارادہ رکھتی ہے جو عام طور پر ملازمین کو حاصل ہوتی ہے۔
ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ کمپنی کے حفاظتی طریقہ کار حقیقی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے کس حد تک مؤثر ہیں اور کسی ممکنہ واقعے کی صورت میں اس کی بروقت نشاندہی اور رپورٹنگ کیسے کی جاسکتی ہے۔
پوری صنعت سے اپیل
داریو اموڈے نے صرف اپنی کمپنی تک محدود رہنے کے بجائے مصنوعی ذہانت کے پورے شعبے سے بھی ایسے اقدامات اپنانے کی اپیل کی ہےان کا مؤقف ہے کہ اے آئی کمپنیوں کو نئی صلاحیتیں متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ ان کے ممکنہ نقصانات کا جائزہ لینے اور حفاظتی نظام بہتر بنانے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی طاقت کے باعث ماہرین پہلے ہی اس بات پر بحث کررہے ہیں کہ مستقبل کے خودکار اے آئی نظاموں کو کس حد تک آزادی دی جانی چاہیے اور انہیں انسانوں کے زیر نگرانی رکھنے کے لیے کون سے حفاظتی اصول ضروری ہوں گے۔