مستند ذرائع کے مطابق حکومت نے دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی سہولت کاری کے پیش نظر رواں سال شمالی و جنوبی وزیرستان میں چلغوزے کی فصل چننے اور اٹھانے پر پابندی عائد کرنے پر غور شروع کر دیا
ذرائع کے مطابق حال ہی میں سیکورٹی فورسز کی اعلیٰ حکمت عملی کے باعث شمالی و جنوبی وزیرستان کے علاقوں میں ہونے والے بارودی گاڑیوں کے دس حملوں میں سے صرف دو کامیاب ہوئے جس سے جانی نقصان بہت کم ہوا-
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ خوارج نے مقامی سہولت کاروں کی مدد سے چلغوزے اور دیگر فروٹ کے گھنے باغات اور جنگلوں کا استعمال کرتے ہوئے یہ بارودی گاڑیاں تیار کی-
اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت نے رواں سال شمالی و جنوبی وزیرستان میں چلغوزے کی فصل اٹھانے کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر غور و خوض شروع کر دیا ہے۔
اگر چہ چلغوزے کی فصل مقامی آبادی کی آمدن کا ایک اہم ذریعہ ہے تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن علاقوں میں سیکیورٹی فورسز مقامی افراد کو محفوظ ماحول فراہم کر کے چلغوزے کی فصل اٹھانے میں معاونت کرتی ہیں، انہی علاقوں میں کچھ مقامی عناصر دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں بھی فراہم کرتے ہیں۔
مزید برآں، بعض مقامی عناصر سیکیورٹی فورسز کے خلاف بارودی مواد اور آئی ای ڈیز نصب کرنے سمیت مختلف تخریبی سرگرمیوں میں بھی سہولت کاری کرتے ہیں۔حکومت کے لئے ایسی دوہری روش مزید قابلِ قبول نہیں۔
اس مرتبہ مقامی آبادی کو حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو یہ یقین دہانی کرانا ہوگی کہ وہ خوارج کی کسی قسم کی سہولت کاری یا معاونت کا حصہ نہیں بنیں گے۔
سیکیورٹی فورسز ہر سال مقامی افراد کو چلغوزے کی فصل محفوظ طریقے سے اٹھانے میں معاونت فراہم کرتی ہیں، جس سے براہِ راست عام عوام اور مقامی معیشت کو فائدہ پہنچتا ہے۔
اگر مقامی آبادی مکمل تعاون، ذمہ داری اور ریاستی اداروں کے ساتھ بھرپور ہم آہنگی کا مظاہرہ کرے گی تو فصل اٹھانے کا عمل پہلے کی طرح محفوظ انداز میں جاری رکھا جا سکے گا،بصورتِ دیگر حکومت اور متعلقہ ادارے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔