بحرالکاحل کے وسط میں واقع ایک دور افتادہ جزیرہ آج بھی دنیا بھر کے ماہرین اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہ ایسٹر آئی لینڈ ہے، جہاں سینکڑوں دیوقامت پتھریلے مجسمے موجود ہیں جنہیں موآئی کہا جاتا ہے۔
جزیرے پر تقریباً 900 سے زائد موآئی مجسمے موجود ہیں۔ ان کی اوسط بلندی تقریباً 13 فٹ اور وزن 14 ٹن تک بتایا جاتا ہے، جبکہ کچھ بڑے مجسموں کا وزن 80 ٹن سے بھی زیادہ ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ صدیوں پہلے راپا نوئی لوگوں نے اتنے بھاری مجسمے کیسے تیار کیے اور پھر انہیں کان سے میلوں دور مختلف مقامات تک کیسے پہنچایا؟
اس زمانے میں نہ بھاری مشینیں تھیں، نہ کرینیں اور نہ ہی جدید نقل و حمل کے ذرائع۔ اس کے باوجود یہ لوگ ان دیوقامت مجسموں کو جزیرے کے مختلف حصوں تک منتقل کرنے میں کامیاب رہے
مقامی روایات میں یہ تصور بھی موجود رہا کہ موآئی مجسمے کسی غیر معمولی طاقت کے ذریعے خود اپنی جگہ تک چل کر پہنچتے تھے۔ تاہم جدید تحقیق نے اس قدیم روایت کو ایک دلچسپ سائنسی وضاحت سے جوڑ دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق موآئی کے نچلے حصے کی ساخت ایسی تھی کہ انہیں سیدھا کھڑا کرکے رسیوں کی مدد سے دائیں اور بائیں جانب جھکایا جا سکتا تھا۔ اس عمل کے ذریعے مجسمے کو ایک مخصوص انداز میں آگے بڑھایا جاتا تھا۔
یعنی بظاہر یہ دیوقامت پتھر واقعی چلتے ہوئے محسوس ہوتے تھے۔ محققین نے اس طریقے کے تجربات بھی کیے ہیں اور بتایا ہے کہ مناسب تعداد میں افراد، رسیاں اور درست تکنیک استعمال کرکے بڑے مجسمے کو کھڑی حالت میں آگے بڑھانا ممکن تھا۔
زمین کے نیچے بھی چھپا ہے موآئی کا جسم
ان مجسموں کے حوالے سے ایک اور حیران کن حقیقت یہ ہے کہ کئی موآئی صرف بڑے بڑے سروں کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں، لیکن دراصل ان کے مکمل دھڑ بھی موجود ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ مٹی اور دیگر قدرتی عوامل کے باعث ان کے جسم کا بڑا حصہ زمین کے اندر دب گیا، جس کی وجہ سے بعض تصاویر میں صرف ان کے سر نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔
موآئی مجسمے راپا نوئی تہذیب کے لیے انتہائی اہم مذہبی اور ثقافتی حیثیت رکھتے تھے اور انہیں اپنے آباؤ اجداد کی یاد اور احترام سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ آج بھی ایسٹر آئی لینڈ کے یہ پراسرار مجسمے انسانی تاریخ، قدیم انجینئرنگ اور راپا نوئی تہذیب کے بارے میں کئی سوالات اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ صدیوں پہلے بغیر جدید مشینری کے اتنے بھاری مجسمے تراشنا اور انہیں دور دراز مقامات تک پہنچانا آج بھی قدیم انسانی صلاحیتوں کی حیران کن مثال سمجھا جاتا ہے۔