کوہاٹ، سونے کی کان کنی میں استعمال ہونے والی 80 فیصد ہیوی مشینری حکومتی شخصیات کی ملکیت نکلی

کوہاٹ، سونے کی کان کنی میں استعمال ہونے والی 80 فیصد ہیوی مشینری حکومتی شخصیات کی ملکیت نکلی

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں سونے کی غیر قانونی کان کنی پر دو سیاسی دھڑوں میں خونی تصادم کے بعد پولیس نے گرینڈ آپریشن کرتے ہوئے غیر قانونی ٹھکانے تباہ اور ہیوی مشینری قبضے میں لے لی ہے۔ 

فائرنگ کے واقعے میں ہلاکتوں کے بعد سابق ایم پی اے امجد آفریدی سمیت دیگر کے خلاف انسدادِ دہشتگردی کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

درابو کچ اور تھانہ گمبت کے علاقے میں سونے کی تلاش نے اس وقت خونریز شکل اختیار کر لی جب دو بااثر سیاسی گروہ آمنے سامنے آ گئے۔

ذرائع کے مطابق حکمران جماعت ’پی ٹی آئی‘ کے صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کے بھتیجوں (مجاہد آفریدی اور صادق آفریدی) اور سابق ایم پی اے امجد آفریدی کے گروہوں کے مابین شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:کوہاٹ میں حالات کشیدہ، غیر قانونی کان کنی پر تصادم، 4 افراد جاں بحق

اس افسوسناک واقعے میں کئی افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 2 ایف آئی آرز درج کی ہیں، جن میں انسدادِ دہشتگردی کی دفعہ 7 بھی شامل کی گئی ہے، جبکہ سابق ایم پی اے امجد آفریدی کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔

بااثر شخصیات کی پشت پناہی اور ہیوی مشینری کا انکشاف

حیران کن طور پر اس غیر قانونی دھندے میں ملوث 80 فیصد سے زیادہ ایکسیویٹرز اور بھاری مشینری کسی عام مافیا کی نہیں بلکہ مبینہ طور پر کوہاٹ سے منتخب حکومتی اراکین اور صوبائی کابینہ کے مشیروں کی ملکیت بتائی جاتی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم اور سابق رکنِ اسمبلی امجد آفریدی دونوں ہی درابو کچ اور قمر کے علاقوں میں اس غیر قانونی سرگرمی کی مبینہ سرپرستی کر رہے تھے۔

پولیس کا ’آپریشن کلین اَپ‘

سیاسی تنازع اور جانی نقصان کے بعد 14 ستمبر کو ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کوہاٹ کی قیادت میں پولیس کی بھاری نفری نے علاقے میں بھرپور کریک ڈاؤن کیا۔

اس گرینڈ آپریشن کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کر کے کان کنی کے غیر قانونی ٹھکانے مسمار کر دیے گئے۔ پولیس نے موقع سے تمام ایکسیویٹرز اور بھاری مشینری کو ہٹا دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی عناصر کے خلاف یہ کارروائیاں آئندہ بھی بلا تعطل جاری رہیں گی۔

مزید پڑھیں:وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لئے نئے صوبے بنائے جائیں، حافظ آباد اور چنیوٹ کے عوام کا ’’آزاد ڈیجیٹل‘‘ سروے میں مطالبہ

کوہاٹ اور اس کے گردونواح میں ندی نالوں کی ریت سے سونا نکالنے یعنی ’پلاسر گولڈ مائننگ‘ کا عمل ایک عرصے سے جاری ہے۔

تاہم اس حوالے سے کوئی مستقل ضابطہ کار یا حکومتی قانون موجود نہیں ہے۔ قانون کی اسی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھا کر مقامی بااثر سیاسی شخصیات اور مافیاز نے اس وسائل پر پنجے گاڑ لیے تھے۔

ریاستی عملداری کمزور ہونے کے سبب یہ علاقہ غیر قانونی مائننگ کا گڑھ بن چکا تھا جس کا نتیجہ بالآخر مفادات کی اس خونی جنگ کی صورت میں نکلا۔

واضح رہے کہ اس واقعے کو ریاستی رٹ کے لیے ایک کھلا چیلنج قرار دیتے ہیں۔ جب قانون بنانے والے ہی مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں کا حصہ بن جائیں، تو وہاں جرائم کا پنپنا فطری امر ہے۔

واضح رہے کہ محض ایک پولیس آپریشن اس مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔ حکومت کو فوری طور پر غیر قانونی مائننگ کے لیے سخت اور شفاف قانون سازی کرنا ہوگی، تاکہ نہ صرف قیمتی قومی وسائل کی لوٹ مار کو روکا جا سکے بلکہ مافیاز کے درمیان مفادات کی ان خونی جنگوں کا بھی ہمیشہ کے لیے سدباب کیا جا سکے۔

Related Articles