آزاد کشمیرکے دارلحکومت مظفرآباد میں معمولات زندگی لوٹ آئے، طویل انتظار کے بعد انٹرنیٹ سروس بھی بحال

آزاد کشمیرکے دارلحکومت مظفرآباد میں معمولات زندگی لوٹ آئے، طویل انتظار کے بعد انٹرنیٹ سروس بھی بحال

مظفرآباد میں انٹرنیٹ سروسز کی مکمل بحالی سے شہریوں نے سکھ کا سانس لیا ہے اور اس اقدام پر وزیراعظم آزاد کشمیر کا شکریہ ادا کیا ہے۔

مظفرآباد سے رپورٹ کے مطابق دارالحکومت مظفرآباد اور اس کے گرد و نواح میں انٹرنیٹ سروسز فعال ہوتے ہی تعلیمی، کاروباری اور روزمرہ کے امور دوبارہ پٹری پر آ گئے ہیں۔

سروسز کی معطلی سے درپیش مشکلات کا خاتمہ ہونے پر شہریوں نے راحت محسوس کی اور اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر کا شکریہ ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر کے 8 اضلاع میں انٹر نیٹ سروس بحال،نوٹیفکیشن جاری

اس موقع پر شہریوں کا کہنا تھا کہ جدید دور میں انٹرنیٹ رابطے کی بنیادی ضرورت ہے۔ شہریوں نے اس عزم کو دوہرایا کہ تمام افراد کو ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے اس سہولت کو اپنے روشن مستقبل اور ریاست کی تعمیر و ترقی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

 انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہر قسم کے ایسے عمل سے مکمل گریز کیا جائے جس سے ریاست یا اس کے اداروں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔

سیاحت اور امن کی بحالی پر زور

شہریوں نے مزید کہا کہ کشمیر اپنی قدرتی خوبصورتی اور سیاحت کی وجہ سے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ خطے میں پائیدار امن کے قیام اور سیاحت کی مکمل بحالی کے لیے انٹرنیٹ کو مثبت اور تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کرنا لازمی ہے۔

مقامی افراد اور بالخصوص نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کشمیر کے پرامن ماحول اور سیاحتی مقامات کو اجاگر کرنے میں اپنا انفرادی و اجتماعی کردار ادا کریں۔

یاد رہے کہ انتظامی وجوہات اور خطے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے مظفرآباد سمیت آزاد کشمیر کے بعض علاقوں میں عارضی طور پر انٹرنیٹ سروسز کو معطل کر دیا گیا تھا۔

اس معطلی کے باعث جہاں عام شہریوں کے رابطے متاثر ہوئے، وہیں آن لائن بزنس، طلبا کی تعلیمی سرگرمیاں اور صحافتی امور بھی شدید پریشانی کا شکار رہے۔

ریاستی حکومت اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے حالات کا جائزہ لینے اور صورتحال بہتر ہونے کے بعد اب ان سروسز کو مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں 3 ماہ بعد انٹرنیٹ سروسز کی مشروط بحالی کا نوٹیفکیشن جاری، راولاکوٹ اور سدھنوتی بدستور محروم

سیاسی اور انتظامی امور کے ماہرین کے مطابق موجودہ تناظر میں انٹرنیٹ سروسز کی بحالی ایک انتہائی مثبت اور ناگزیر قدم ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ آزاد کشمیر کی معیشت کا ایک بڑا حصہ مقامی تجارت اور سیاحت سے جڑا ہوا ہے، جس کے لیے تیز رفتار اور بلا تعطل انٹرنیٹ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے سروسز کی بحالی پر عوام کا مثبت ردعمل اور ذمہ دارانہ استعمال کی نیت اس بات کا ثبوت ہے کہ شہری ملکی امن اور ترقی کی اہمیت کو خوب سمجھتے ہیں۔

اب یہ ذمہ داری شہریوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو منفی پروپیگنڈے کے بجائے سیاحت کی ترغیب اور ریاستی خوشحالی کا ذریعہ بنائیں، تاکہ خطے میں معاشی اور سماجی استحکام کو مزید تقویت مل سکے۔

Related Articles