گر آپ ایرانی ریال خریدنے یا ایران کے ساتھ مالی لین دین کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ خبر آپ کے لیے اہم ہے کیونکہ ایرانی ریال کی قدر میں ایک بار پھر نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
کرنسی مارکیٹ میں پاکستان میں ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت تقریباً 5 ہزار روپے تک آ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری اور اوپن مارکیٹ کے نرخوں میں بڑھتا ہوا فرق آئندہ دنوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
ایران کے مرکزی بینک نے 29 جولائی 2026 کے لیے غیر ملکی کرنسیوں کے نئے سرکاری نرخ جاری کر دیے ہیں ، تازہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر مزید کم ہوئی ہے، جبکہ یورو سمیت دیگر بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں بھی ریال دباؤ کا شکار ہے۔
نئے سرکاری نرخ .
مرکزی بینک کے مطابق ایک امریکی ڈالر کی سرکاری قیمت 14 لاکھ 36 ہزار 205 ایرانی ریال مقرر کی گئی ہے، جو اس سے پہلے 14 لاکھ 21 ہزار 105 ریال تھی، اسی طرح ایک یورو کی قیمت بڑھ کر 16 لاکھ 33 ہزار 131 ایرانی ریال تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب مجاز منی چینجرز کے زیر استعمال ثناء سسٹم میں امریکی ڈالر 15 لاکھ 17 ہزار 870 ریال جبکہ یورو 17 لاکھ 25 ہزار 994 ریال پر ٹریڈ ہو رہا ہے، جس سے سرکاری اور عملی مارکیٹ کے درمیان واضح فرق سامنے آتا ہے۔
پاکستانی روپے کے مقابلے میں ایرانی ریال کی نئی قیمت
مرکزی بینک کے جاری کردہ نرخوں کے مطابق 100 پاکستانی روپے کی قیمت 5 لاکھ 17 ہزار 104 ایرانی ریال مقرر کی گئی ہے۔ اس حساب سے ایک پاکستانی روپیہ تقریباً 5 ہزار 171 ایرانی ریال کے برابر ہو چکا ہے۔
پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں اس وقت ایک کروڑ ایرانی ریال تقریباً 4 ہزار 500 سے 5 ہزار روپے کے درمیان فروخت ہو رہا ہے، جو ریال کی کمزور ہوتی قدر کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔
اوپن مارکیٹ میں فرق کیوں بڑھ رہا ہے؟
سرکاری نرخوں کے برعکس ایران کی اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت 18 لاکھ 60 ہزار سے 18 لاکھ 90 ہزار ایرانی ریال کے درمیان دیکھی جا رہی ہے، یہی فرق سرمایہ کاروں، تاجروں اور کرنسی ڈیلرز کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق جب سرکاری اور غیر سرکاری نرخوں میں اتنا بڑا فرق پیدا ہو جائے تو کرنسی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ جاتی ہے، جس کے اثرات تجارت اور سرمایہ کاری دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔
تاجراور ایرانی ریال خریدنے والوں کے لیے اہم انتباہ
کرنسی مارکیٹ کے ماہرین نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے تاجروں اور درآمد و برآمد سے وابستہ افراد کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے ، ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایرانی ریال کی قیمت میں مزید اتار چڑھاؤ خارج از امکان نہیں، اس لیے کسی بھی بڑے مالی فیصلے سے پہلے تازہ ترین ایکسچینج ریٹس ضرور چیک کیے جائیں۔
اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں ایرانی ریال کی قدر مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس کے براہِ راست اثرات دونوں ممالک کے درمیان تجارتی لین دین اور کرنسی مارکیٹ پر پڑنے کا امکان ہے۔