ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی بے قابو ہوچکی ہے ، اسی دوران آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ضلع چینیوٹ میں چکی مالکان نے آٹے کی قیمت میں 15 روپے فی کلو اضافہ کر دیا، جبکہ مارکیٹ میں گندم اور آٹے کے نرخ بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق اس وقت گندم 5 ہزار 300 روپے فی من کے حساب سے فروخت ہو رہی ہے، جبکہ چکی آٹے کی قیمت بڑھ کر 5 ہزار 600 روپے فی من تک جا پہنچی ہے ، قیمتوں میں اس اضافے کا براہِ راست اثر عام صارفین پر پڑ رہا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
چکی مالکان کا کہنا ہے کہ گندم کی قلت اور اس کی بڑھتی ہوئی قیمت کے باعث انہیں آٹے کے نرخ بڑھانے پر مجبور ہونا پڑا، مارکیٹ میں گندم کی دستیابی محدود ہے جبکہ خریداری مہنگے داموں ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب شہریوں نے آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف ایک ہفتے کے دوران 10 کلو آٹے کا تھیلا تقریباً 200 روپے مہنگا ہو گیا ہے، جس سے گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہوا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ متوسط اور کم آمدن والے طبقے کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
شہریوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم اور آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں ، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائی کی جائے۔