ملک بھر میں مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے اور اب صرف ایک ہفتے کے دوران گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے گھریلو بجٹ پر مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
روزمرہ استعمال کی ان بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے نے صارفین کو نئی پریشانی سے دوچار کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ذرائع کا بتانا ہے کہ کھلا خوردنی تیل اب 510 روپے فی کلو یا اس سے زائد قیمت پر فروخت ہو رہا ہے، جبکہ کھلے گھی کی قیمت 470 روپے فی کلو سے بڑھ کر 500 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔
اسی طرح مختلف معروف برانڈز کے گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد کئی برانڈز کے ایک لیٹر پیک کی قیمت 580 روپے سے بڑھ کر 620 روپے تک جا پہنچی ہے۔
دوسری جانب دکانداروں کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور بین الاقوامی سطح پر جاری کشیدہ صورتحال کے باعث درآمدی لاگت میں اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات مقامی مارکیٹ میں بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں، درآمدی اخراجات بڑھنے کے بعد کمپنیوں نے نئی قیمتیں مقرر کی ہیں، جن کا بوجھ بالآخر صارفین کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق گھی اور خوردنی تیل جیسی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف گھریلو اخراجات میں اضافہ کرتا ہے بلکہ اس کے اثرات دیگر غذائی اشیاء کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں ، خاص طور پر کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کے لیے یہ صورتحال مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ضروری اشیائے خور و نوش کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مہنگائی کے مسلسل بڑھتے ہوئے اثرات سے عوام کو کچھ ریلیف مل سکے ، اگر قیمتوں میں اضافے کا یہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے ہفتوں میں مزید اشیائے ضروریہ بھی مہنگی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔