سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی صدر ٹرمپ، جے ڈی وینس سے ہنگامی ملاقات، ولی عہد کا اہم ترین پیغام پہنچا دیا

سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی صدر ٹرمپ، جے ڈی وینس سے ہنگامی ملاقات، ولی عہد کا اہم ترین پیغام پہنچا دیا

سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے امریکی صدر ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات کی جس کا مقصد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا خصوصی پیغام امریکی قیادت تک پہنچانا تھا، اس سے قبل نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات میں سعودی وزیر دفاع نے ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی کی خواہش ظاہر کی۔

ملاقات کا پس منظر اور مقصد

امریکی میڈیا کے مطابق سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے بدھ کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات کی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ملاقات کا بنیادی مقصد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا خطے کی موجودہ صورتحال اور ایران کے ساتھ جاری جنگ سے متعلق ایک خصوصی پیغام امریکی قیادت تک پہنچانا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا اور سعودی عرب کے درمیان 142 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدوں پر دستخط ہو گئے

یہ ملاقات نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کے بعد سعودی وزیر دفاع کے دورے کے پروگرام میں شامل کی گئی، اس سے قبل سعودی وزیر نے وینس کو بتایا کہ سعودی عرب ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی کا خواہاں ہے، باوجود اس کے کہ رواں ہفتے امریکا اور سعودی عرب نے مشترکہ طور پر عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کے خلاف حملے کیے تھے۔

نائب صدر وینس سے ملاقات میں کیا بات چیت ہوئی؟

سعودی وزیر دفاع نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات میں واضح کیا کہ سعودی عرب ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نواز عراقی ملیشیاؤں نے سعودی بنیادی ڈھانچے اور توانائی تنصیبات پر حملے کر کے ریڈ لائن کراس کی، جس کی وجہ سے مملکت کو جواب دینا پڑا۔

سعودی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ عراق میں کی گئی کارروائی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سعودی عرب کشیدگی بڑھانے کا حامی ہے، بلکہ اس کارروائی کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ مملکت اپنے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

مزید پڑھیں:ایران اور عمان کا نیا منصوبہ، آبنائے ہرمز میں جہازوں کو محفوظ راستہ دینے پر بڑا اتفاق

میڈیا رپورٹس کے مطابق نائب صدر وینس نے سعودی دورے کو خوش آمدید کہا اور ولی عہد محمد بن سلمان کی تعریف بھی کی۔

نیتن یاہو پر کشیدگی بڑھانے کا الزام

سعودی وزیر دفاع نے نائب صدر وینس کو بتایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھانے پر زور دے رہے ہیں، جبکہ سعودی عرب کشیدگی میں کمی کا خواہاں ہے کیونکہ یہ زیادہ سودمند راستہ ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ سعودی وزیر دفاع کا وائٹ ہاؤس کا دورہ اسرائیلی وزیر اعظم کی ٹرمپ سے ملاقات کے ایک دن بعد ہوا۔

حوثیوں کے حوالے سے سعودی مؤقف

امریکی میڈیا نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ عراق پر حملوں کا ایک مقصد یمن کے حوثی باغیوں کو بھی پیغام دینا تھا۔

سعودی وزیر دفاع نے امریکی نائب صدر کو بتایا کہ سعودی عرب حوثیوں سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور فی الحال اس معاملے پر امریکی مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حوثیوں کے ساتھ مذاکرات بھی بیک وقت جاری ہیں۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہوئیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ سعودی وزیر دفاع کا دورہ ایسے موقع پر ہوا جب امریکی مرکزی کمانڈ نے سعودی مسلح افواج کے ساتھ مل کر بدھ  کو عراق میں ایران نواز عناصر کے خلاف کارروائی کی۔

مزید پڑھیں:خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا ، دنیا بھر میں پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا ہونے کا خدشہ

امریکی مرکزی کمانڈ کا کہنا تھا کہ گزشتہ 72 گھنٹوں میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی ہدایت پر تیس سے زائد ڈرون حملے کیے گئے، جن کے جواب میں امریکی اور سعودی جنگی طیاروں نے مشرقی عراق میں متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

خیال رہے کہ سعودی وزیر دفاع، جو ولی عہد محمد بن سلمان کے بھائی اور قریبی ساتھی ہیں، ایران کی صورتحال پر مشاورت کے لیے کئی بار امریکا کا دورہ کر چکے ہیں۔

اس سے قبل رواں سال کے اوائل میں بھی سعودی وزیر دفاع نے واشنگٹن میں ایک نجی بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ اگر امریکا ایران کے خلاف اپنی دھمکیوں پر عمل نہ کرے تو اس سے ایرانی حکومت مزید مضبوط ہو جائے گی۔

سعودی عرب کی محتاط سفارتکاری

ایک طرف مملکت نے عراق میں براہ راست فوجی کارروائی کر کے یہ ثابت کیا کہ وہ اپنی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی، تو دوسری طرف واشنگٹن میں بیک وقت کشیدگی کم کرنے کا پیغام بھی پہنچایا جا رہا ہے۔ یہ حکمتِ عملی ظاہر کرتی ہے کہ سعودی عرب طاقت کا مظاہرہ اور سفارتی توازن دونوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہے۔

نیتن یاہو پر کشیدگی بڑھانے کا الزام لگا کر سعودی عرب نے واضح کر دیا کہ خطے کے تمام فریق ایک ہی سوچ نہیں رکھتے اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسی مملکت کے مفادات سے متصادم ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں:سعودی آئل ٹینکروں پر حوثی حملے، شہباز شریف کا محمد بن سلمان سے رابطہ، سعودی سلامتی اور دفاع کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ

اس کے ساتھ ساتھ حوثیوں کے معاملے پر امریکی مداخلت کی ضرورت نہ ہونے کا بیان سعودی عرب کے اس اعتماد کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنے علاقائی مسائل خود حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بغیر امریکا پر مکمل انحصار کیے۔

مجموعی طور پر یہ ملاقات اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران سعودی عرب ایک اہم ثالث اور اثر و رسوخ رکھنے والے فریق کے طور پر ابھر رہا ہے، جو امریکا کی پالیسی سازی میں براہ راست کردار ادا کر رہا ہے۔

Related Articles