سعودی آئل ٹینکروں پر حوثی حملے، شہباز شریف کا محمد بن سلمان سے رابطہ، سعودی سلامتی اور دفاع کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ

سعودی آئل ٹینکروں پر حوثی حملے، شہباز شریف کا محمد بن سلمان سے رابطہ، سعودی سلامتی اور دفاع کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے بحیرۂ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وزیراعظم ہاؤس سے 23 جولائی 2026 کو جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان انتہائی خوشگوار ماحول میں ہونے والی گفتگو کے دوران خطے کی سلامتی، بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی حفاظت اور سعودی عرب کی خودمختاری سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

محمد شہباز شریف نے حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کے واقعات کو ‘بزدلانہ، ناقابل قبول اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی’ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ تجارتی اور توانائی بردار جہازوں پر حملے آزادیٔ جہازرانی، عالمی تجارت اور قانونی بحری نقل وحرکت کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔ ایسے اقدامات سے پورے خطے کے امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

وزیراعظم نے سعودی ولی عہد کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان اس نازک موقع پر سعودی عرب کی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

محمد شہباز شریف نے کہا کہ  ’میں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم سعودی قیادت اور برادر سعودی عوام کے ساتھ مضبوطی اور ثابت قدمی سے کھڑے ہیں۔‘

وزیراعظم نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک خطے میں کسی بھی عدم استحکام کے خلاف قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔

بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز کی سلامتی پر اتفاق

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شہزادہ محمد بن سلمان کو یقین دلایا کہ پاکستان سعودی عرب اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر بحیرۂ احمر، آبنائے ہرمز اور وسیع تر خطے میں امن، استحکام اور قانونی بحری تجارت کے بلاتعطل تسلسل کے لیے کام کرتا رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور سعودی عرب کا خواتین کو بااختیار بنانے اور خاندانی نظام کے استحکام پر تعاون بڑھانے پر اتفاق

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی مستقل اور دوٹوک حمایت کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔

ٹیلیفونک گفتگو کے دوران وزیراعظم نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے نیک تمناؤں، احترام اور خیرسگالی کا پیغام بھی پہنچایا۔

سعودی ٹینکروں پر حملے میں کیا ہوا؟

حوثی ملیشیا نے بحیرۂ احمر میں سعودی عرب سے منسلک 2 آئل ٹینکروں ’انسیلیا‘ اور ’لیلیٰ‘ کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثیوں کے مطابق ان جہازوں کو سعودی عرب کے خلاف اعلان کردہ بحری پابندی کی خلاف ورزی پر نشانہ بنایا گیا۔

سعودی عرب کی جنرل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے تصدیق کی کہ ایک سعودی کمپنی کے زیرانتظام جہاز ‘انسیلیا’ کو بحیرۂ احمر میں سفر کے دوران نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز کے اگلے حصے میں آگ لگ گئی۔

سعودی حکام کے مطابق جہاز پر موجود تمام افراد محفوظ رہے، جبکہ متعلقہ اداروں نے جہاز اور اس کے عملے کو محفوظ بنانے اور ممکنہ سمندری آلودگی روکنے کے لیے ضروری اقدامات کیے۔ سعودی اتھارٹی نے حملے کو تجارتی جہازوں اور ان کے عملے کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔

سعودی حکام نے اب تک ایک جہاز پر حملے کی باضابطہ تصدیق کی ہے، جبکہ دوسرے ٹینکر پر حملے کی اطلاع حوثی ملیشیا کے دعوے اور بین الاقوامی ذرائع کی رپورٹس پر مبنی ہے۔

حوثیوں کی بحری پابندی

حوثی ملیشیا نے حملوں سے چند روز قبل سعودی عرب کے خلاف بحری پابندی عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بین الاقوامی کمپنیوں کو سعودی بندرگاہوں سے تجارت نہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

حوثی حکام نے بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی آبنائے باب المندب سے سعودی عرب کے لیے سفر کرنے والے جہازوں کو روکنے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں متعدد آئل ٹینکروں نے سیکیورٹی خدشات کے باعث راستے تبدیل کیے یا عارضی طور پر سفر روک دیا۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت کو ایک اور ’منہ کی کھانی پڑی‘، پاکستان اور سعودی عرب کا اہم مشترکہ منصوبہ شروع کرنے پرغور

پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی حوثیوں کی دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا  ہے کہ تجارتی جہازوں کو روکنے یا نشانہ بنانے سے علاقائی سلامتی، عالمی تجارت اور قوانین پر مبنی بحری نظام کو خطرہ لاحق ہوگا۔

دفتر خارجہ نے خبردار کیا تھا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا پاکستان کے بحری مفادات کے خلاف کسی بھی دشمنانہ کارروائی کو ملکی سلامتی اور خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔

پاکستان نے اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے جہازوں اور بحری مفادات کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کا حق بھی محفوظ رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

آبنائے باب المندب کیوں اہم ہے؟

آبنائے باب المندب عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحرہند سے ملاتی ہے جبکہ اسی راستے کے ذریعے ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل، گیس اور تجارتی سامان منتقل ہوتا ہے۔

آبنائے ہرمز میں جاری رکاوٹوں اور سیکیورٹی خطرات کے باعث سعودی عرب کے لیے بحیرۂ احمر کا راستہ مزید اہم ہوگیا ہے۔ سعودی عرب اپنی مشرقی تنصیبات سے تیل پائپ لائن کے ذریعے مغربی ساحل تک پہنچا کر بحیرۂ احمر کے راستے عالمی منڈیوں کو برآمد کرسکتا ہے۔

بحیرۂ احمر اور باب المندب میں طویل بحران کی صورت میں جہازوں کو افریقا کے گرد طویل راستہ اختیار کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے سفری دورانیہ، ایندھن کے اخراجات، کرایوں اور بحری بیمے کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ

سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 98 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 4.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مارکیٹ میں یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر حوثی حملے جاری رہے تو سعودی تیل کی بحیرۂ احمر کے ذریعے برآمد متاثر ہوسکتی ہے، جس سے پہلے ہی دباؤ کا شکار عالمی توانائی منڈی کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پاک سعودی دفاعی تعاون

پاکستان اور سعودی عرب نے 17 ستمبر 2025 کو ‘اسٹرٹیجک باہمی دفاعی معاہدے’ پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرنا تھا۔

معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے قرار دیا تھا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ پاکستان کی وفاقی کابینہ نے اکتوبر 2025 میں اس معاہدے کی توثیق بھی کردی تھی۔

مزید پڑھیں:پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری ، ترقیاتی منصوبوں کے متعدد معاہدے طے

اسی تناظر میں وزیراعظم کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری قوم کا خصوصی حوالہ محض روایتی سفارتی اظہار نہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی اور دفاعی قیادت کے مشترکہ مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔

تاہم وزیراعظم کے موجودہ بیان میں کسی فوجی کارروائی، دستوں کی تعیناتی یا عملی دفاعی اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا۔ بیان کا فوری مرکز سعودی عرب سے سیاسی یکجہتی، بحری تجارت کا تحفظ اور علاقائی کشیدگی میں کمی ہے۔

مسلسل پاک سعودی رابطے

واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کے درمیان حالیہ مہینوں میں علاقائی صورتحال پر متعدد مرتبہ رابطہ ہوا ہے۔

19 جون 2026 کی ٹیلیفونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن کی کوششوں، ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور پاکستان کی سفارتی کاوشوں پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ دونوں ممالک نے امن عمل کو نقصان پہنچانے والی کوششوں کے خلاف قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔

موجودہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اسٹرٹیجک اور دفاعی معاہدے کا پابند ہے اور دوسری جانب خطے میں وسیع جنگ روکنے کے لیے سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

سعودی آئل ٹینکروں پر حوثی حملے بحیرۂ احمر کی سلامتی میں ایک نئے اور خطرناک مرحلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ حوثی کارروائیاں پہلے مختلف ممالک کے تجارتی جہازوں تک محدود تھیں، لیکن سعودی تیل بردار جہازوں کو براہ راست نشانہ بنانے سے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کئی برس سے قائم نسبتاً پرسکون صورتحال متاثر ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تجارت کا حجم بڑھانے کیلئے بھر پور اقدامات اٹھائے جائیں گے،وزیراعظم

اس پیش رفت کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ خلیج کے 2 اہم بحری راستے بیک وقت غیرمحفوظ ہوسکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں پہلے ہی کشیدگی موجود ہے، جبکہ اب باب المندب اور بحیرۂ احمر میں حملوں نے سعودی عرب کے متبادل برآمدی راستے کو بھی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

اگر یہ صورتحال طویل ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف سعودی عرب تک محدود نہیں رہیں گے۔ پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کو مہنگے خام تیل، اضافی بحری کرایوں، بلند انشورنس اخراجات اور رسد میں ممکنہ تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا فوری رابطہ پاکستان کی جانب سے 3 واضح پیغامات دیتا ہے۔ پہلا یہ کہ سعودی عرب کی سلامتی کو پاکستان اپنی اہم تزویراتی ترجیح سمجھتا ہے۔ دوسرا یہ کہ بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کو نقصان پہنچانے والی کارروائیوں کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ تیسرا یہ کہ پاکستان علاقائی بحران میں محض تماشائی کے بجائے ایک فعال سفارتی فریق رہنا چاہتا ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نام خصوصی طور پر شامل کرنا بھی اہم ہے۔ اس سے سعودی قیادت کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ حمایت صرف حکومت یا دفتر خارجہ تک محدود نہیں بلکہ اس مؤقف کو پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کی مشترکہ تائید حاصل ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششیں، سعودی عرب کا ایک مرتبہ پھر حمایت کا اعادہ

موجودہ حالات میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ اپنے تجارتی جہازوں کی نگرانی، بحری انٹیلی جنس، بندرگاہوں کی سیکیورٹی اور ہنگامی راستوں کی منصوبہ بندی بہتر بنائے۔ بحیرۂ احمر میں طویل بندش پاکستان کی درآمدی لاگت اور توانائی کی قیمتوں پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

حتمی طور پر اس بحران کا حل صرف فوجی کارروائیوں میں نہیں بلکہ بحری راستوں کے تحفظ، علاقائی مذاکرات اور یمن تنازع کے سیاسی حل میں ہے۔ بصورت دیگر ایک جہاز پر ہونے والا حملہ عالمی توانائی اور تجارت کے بڑے بحران میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

Related Articles