آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لیے انتخابی مہم اپنے مقررہ وقت پر ختم ہو گئی۔ اب امیدوار کسی بھی قسم کی انتخابی سرگرمی یا جلسہ جلوس نہیں کر سکیں گے جبکہ پولنگ اتوار 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن کے تین اضلاع اور مہاجرین کی 12 مخصوص نشستوں پر ہوگی۔
9 حلقوں میں ووٹنگ ہوگی
الیکشن کمیشن کے مطابق دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کے اضلاع مظفرآباد، نیلم اور جہلم ویلی کے مجموعی طور پر 9 انتخابی حلقوں میں ووٹنگ ہوگی۔ تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور پولنگ کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی کے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔
رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مظفرآباد ڈویژن میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 8 لاکھ 90 ہزار 621 ہے۔ ان میں 4 لاکھ 27 ہزار 955 مرد جبکہ 3 لاکھ 81 ہزار 666 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔
ووٹنگ کے لیے مظفرآباد ڈویژن بھر میں ایک ہزار 483 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں جہاں ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق تمام پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی عمل شفاف اور پرامن انداز میں مکمل کرانے کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں۔
مہاجرین کی 12 نشستوں پر بھی ووٹنگ
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں پر بھی 2 اگست کو پولنگ ہوگی۔ ان میں جموں کی 6 اور ویلی کی 6 نشستیں شامل ہیں جن کے لیے پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم کشمیری ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔
جموں کی نشستیں ایل اے 34 جموں ون سے ایل اے 39 جموں سکس جبکہ ویلی کی نشستیں ایل اے 40 ویلی ون سے ایل اے 45 ویلی سکس تک مشتمل ہیں۔
الیکشن کمیشن آزاد اور خودمختار ہے، چیف الیکشن کمشنر
چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے کہا کہ الیکشن کمیشن مکمل طور پر آزاد اور خودمختار ادارہ ہے اور کسی کی ہدایت یا دباؤ پر کام نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات میں شکست کے بعد اکثر سیاسی جماعتیں دھاندلی کے الزامات عائد کرتی ہیں تاہم الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داریاں غیر جانبداری کے ساتھ انجام دے رہا ہے۔
عوام بھرپور انداز میں ووٹ ڈالیں
چیف الیکشن کمشنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھروں سے نکل کر اپنا حق رائے دہی ضرور استعمال کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام ووٹ ڈالنے کے بجائے خاموش رہیں گے تو مسائل کا حل جلسوں، احتجاج یا دھرنوں سے نہیں بلکہ بیلٹ باکس کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔
راولاکوٹ کے انتخابات مؤخر ہونے کا امکان
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کے باعث یہ آزاد کشمیر کی تاریخ کے مشکل ترین انتخابات ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کے مطابق اگر حالات میں بہتری نہ آئی تو راولاکوٹ میں ہونے والے انتخابات کی تاریخ میں ردوبدل یا انہیں آگے پیچھے کرنے کا فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔