وفاقی حکومت نے عوام کو جزوی ریلیف دیتے ہوئے مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک روپے 22 پیسے فی لیٹر کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں مٹی کا تیل نئی مقررہ قیمت پر فروخت کیا جائے گا۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت میں ایک روپے 22 پیسے کی کمی کی گئی ہے۔ اس فیصلے کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 305 روپے 22 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل یہ 306 روپے 44 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا تھا۔
حکام کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا فیصلہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر اور دیگر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
مٹی کا تیل ملک کے بالائی، دور افتادہ اور سرد علاقوں میں ایندھن کے طور پر وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے جبکہ کئی علاقوں میں یہ گھریلو ضروریات، کھانا پکانے اور حرارت حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے قیمت میں ہونے والی معمولی کمی سے ان علاقوں کے صارفین کو کچھ حد تک ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام برقرار رہا اور روپے کی قدر میں بہتری آئی تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ عالمی مارکیٹ کی صورتحال، درآمدی اخراجات اور حکومتی مالیاتی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
دوسری جانب عوام نے قیمت میں کمی کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں پیٹرولیم مصنوعات سمیت دیگر ضروری اشیائے صرف کی قیمتوں میں بھی مزید کمی کی جائے تاکہ عام شہریوں پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔