برطانیہ، بلغاریہ اور یوکرین نے جنگ میں شامل نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی، ایران کا دعویٰ

برطانیہ، بلغاریہ اور یوکرین نے جنگ میں شامل نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی، ایران کا دعویٰ

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانیہ، بلغاریہ اور یوکرین نے جاری کشیدگی کے دوران جنگ میں شریک نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق خطے کی صورتحال، آبنائے ہرمز اور بحری آمدورفت سے متعلق متعدد سفارتی رابطے جاری ہیں جبکہ عمان کے ساتھ نئے بحری راستے کے معاملے پر بھی بات چیت آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ برطانیہ، بلغاریہ اور یوکرین نے تہران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جاری تنازع میں کسی بھی عسکری کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ تاہم انہوں نے ان رابطوں کی مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستان اور ایران کی دوطرفہ محبت ہمیشہ قائم رہے گی، اسماعیل بقائی

اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا نے مفاہمتی یادداشت کے تحت بحری آمدورفت کی مکمل بحالی کی اجازت نہیں دی۔ معاہدے کی مدت مکمل ہونے سے پہلے امریکی حملے نے اعتماد کو نقصان پہنچایا اور آبنائے ہرمز کی بندش بھی امریکی وعدوں کی مبینہ خلاف ورزیوں سے جڑی ہوئی ہے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے بتایا کہ ایران عمان کے ساتھ متبادل بحری راستے سے متعلق مذاکرات کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ اور عمان کے ساتھ جاری بحری مذاکرات دو الگ موضوعات ہیں جن پر مختلف سطحوں پر پیش رفت جاری ہے۔

اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی کہہ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان ہونے والے مذاکرات اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک خطے میں بحری نقل و حمل کو بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران پاکستان کی حمایت کو کبھی فراموش نہیں کرے گا ، ایرانی صدر

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا نے سفارتی کوششوں کو موقع دینے کے لیے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ آبنائے ہرمز اور علاقائی سلامتی سے متعلق جاری سفارتی رابطے آئندہ دنوں میں خطے کی صورتحال پر اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

editor

Related Articles