آزاد کشمیر انتخابی عمل شفاف نہیں رہا ، نتائج تسلیم نہیں کرینگے،راجہ پرویز اشرف

آزاد کشمیر انتخابی عمل شفاف نہیں رہا ، نتائج تسلیم نہیں کرینگے،راجہ پرویز اشرف

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی عمل شفاف نہیں رہا س لیے ایسے انتخابات کے نتائج قبول نہیں کیے جائیں گے۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ حلقوں میں عوامی مینڈیٹ تبدیل کیا گیا اور الیکشن کمیشن کو فراہم کیے گئے شواہد کے باوجود مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

راجہ پرویز اشرف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات پر عوام کا اعتماد بری طرح متاثر ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی نے متعدد حلقوں میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے ثبوت الیکشن کمیشن کے سامنے رکھے لیکن ان شکایات پر خاطر خواہ کارروائی نہیں ہوئی۔

 یہ بھی پڑھیں :آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ، 21 نشستوں پر پولنگ جاری، ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں سخت مقابلہ

انہوں نے الزام لگایا کہ میرپور ڈویژن میں پیپلز پارٹی کے کامیاب امیدواروں کے نتائج تبدیل کیے گئے اور انہیں شکست سے دوچار کیا گیا۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پارٹی آزاد کشمیر انتخابات کے تیسرے مرحلے کے بائیکاٹ سمیت دیگر سیاسی اور قانونی آپشنز پر بھی غور کر سکتی ہے۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ نکیال میں انتخابی عمل کے دوران پیپلز پارٹی کا ایک کارکن جان سے ہاتھ دھو بیٹھا جبکہ جاوید ایوب کے حلقے میں یہ کہہ کر پولنگ ملتوی کر دی گئی کہ پولنگ کا سامان وقت پر نہیں پہنچ سکا۔ ایسے واقعات نے انتخابی عمل کی شفافیت پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات سے یہی تاثر ابھرتا ہے کہ انتخابات کے نتائج پہلے سے طے شدہ تھے۔ دھاندلی سے حاصل ہونے والے نتائج نہ تو عوامی اعتماد کی حقیقی نمائندگی کرتے ہیں اور نہ ہی ایسی حکومت عوامی مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :آزاد کشمیر میں صدر اور وزیراعظم آپ کا ہے، پھر دھاندلی کیسے ہوگئی؟ امیر مقام

سابق وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعت کے بعض رہنما ووٹوں کی مبینہ چوری کو معمولی مسئلہ قرار دے رہے ہیں حالانکہ بیلٹ پیپر عوام کے فیصلے کی عکاسی کرتے ہیں اور ان میں ردوبدل جمہوری اقدار کے منافی ہے۔

دوسری جانب استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس خان نے بھی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے تیسرے مرحلے کے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات آزاد، منصفانہ اور شفاف انداز میں نہیں کرائے گئے۔

سردار تنویر الیاس نے الزام عائد کیا کہ انتخابی عمل میں سنگین بے ضابطگیاں کی گئیں اور عوام کے حق رائے دہی کو متاثر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان نتائج کو تسلیم نہیں کرتے اور ان کے نزدیک الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا۔

 یہ بھی پڑھیں :آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ، 21 نشستوں پر پولنگ جاری، ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں سخت مقابلہ

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور انتخابی عمل کے دوران پیدا ہونے والی صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔ دھاندلی کے باعث عوام کا اعتماد متاثر ہوا ہے اور اس کے نتائج مستقبل کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

editor

Related Articles