ایران اور امریکا کے درمیان تعطل کا شکار مفاہمتی عمل کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے رکن حسن قشقاوی نے کہا ہے کہ ثالث ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے 14 نکاتی اسلام آباد معاہدے کو فعال بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملہ آبنائے ہرمز ہے جس پر مسلسل مشاورت اور رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان حسن قشقاوی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مختلف ثالثی کرنے والے ممالک دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی بحالی اور مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 14 نکاتی اسلام آباد معاہدے کو دوبارہ نافذ کرنے کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
حسن قشقاوی کا کہنا تھا کہ موجودہ مرحلے پر اصل توجہ آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر مرکوز ہے کیونکہ یہی مسئلہ پورے سفارتی عمل کی بنیاد بن چکا ہے۔ ان کے مطابق اس حساس معاملے پر مسلسل تبادلہ خیال جاری ہے اور مختلف تجاویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاہم انہوں نے ان مذاکرات کی نوعیت یا ممکنہ پیش رفت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے بلکہ پس پردہ مختلف سطحوں پر بات چیت جاری ہے۔ ثالثوں کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی میز پر آئیں اور ماضی میں طے شدہ نکات پر عمل درآمد کا راستہ ہموار کیا جائے۔
یاد رہے کہ گزشتہ جون میں ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان اور قطر کی ثالثی سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی جس پر دونوں ممالک کے صدور نے 17 جون کو دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے میں 14 اہم نکات شامل تھے جن کا مقصد کشیدگی میں کمی لانا اور مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات کا باضابطہ شیڈول طے کرنا تھا۔
اس مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو یقینی بنانے، ایران کے منجمد اثاثوں کے معاملے، ایرانی جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور دیگر اہم علاقائی و بین الاقوامی امور پر پیش رفت کے لیے فریم ورک وضع کیا گیا تھا۔
معاہدے کے بعد دونوں ممالک نے پاکستان اور قطر کی میزبانی میں سوئٹزرلینڈ میں تقریباً چار دہائیوں بعد براہ راست مذاکرات بھی کیے تھے۔ بعد ازاں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں تکنیکی سطح پر دونوں وفود کے درمیان مزید ملاقاتیں ہوئیں جن میں مختلف نکات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
تاہم اسلام آباد میں مذاکرات کے تیسرے دور سے قبل صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو گئی۔ ایران اور امریکا نے ایک دوسرے پر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان عسکری کارروائیاں دوبارہ شروع ہو گئیں اور مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔
اب ایرانی پارلیمنٹ کے رکن کے حالیہ بیان کو اس تعطل کے بعد ایک اہم سفارتی اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز سمیت اہم تنازعات پر پیش رفت ہوتی ہے تو ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی اور کشیدگی میں کمی کے امکانات دوبارہ روشن ہو سکتے ہیں۔