امریکی صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدہ مذاکرات کا اہم حصہ ہے اور امریکا چاہتا ہے کہ یہ اہم عالمی بحری گزرگاہ ہر قسم کی رکاوٹ سے محفوظ رہے تاکہ بین الاقوامی تجارت اور تیل کی ترسیل بلا تعطل جاری رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ امریکا کی کوشش ہے کہ ایسا جامع معاہدہ طے پائے جس کے ذریعے ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ اگر اس حوالے سے اتفاق رائے ہو جاتا ہے تو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے ساتھ عالمی سلامتی کو بھی تقویت ملے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک نے امریکا سے درخواست کی تھی کہ ایران کے خلاف فوری فوجی کارروائی نہ کی جائے بلکہ سفارت کاری کو موقع دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مستقبل اور خطے میں استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکا نے حملہ مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اگر ایران نے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا یا معاہدوں کی خلاف ورزی کی تو امریکا اپنے مفادات اور اتحادیوں کے دفاع کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے سے گریز نہیں کرے گا۔
انہوں نے ا مذاکرات کی کامیابی نہ صرف امریکا اور ایران بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہوگی کیونکہ اس سے عالمی توانائی کی منڈیوں میں استحکام آئے گا اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل معمول کے مطابق جاری رہ سکے گی۔