کیا کرائے کے بوجھ سے پریشان افراد کے لیے اپنا گھر بنانے کا خواب اب آسان ہونے والا ہے؟ نئے مالی سال کے بجٹ میں جائیداد پر ٹیکس کے دباؤ میں کمی اور بینکوں سے ایک کروڑ روپے تک قرض کی سہولت نے ہاؤسنگ سیکٹر سے وابستہ افراد اور گھر کے خواہشمند شہریوں میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) کے سرپرست اعلیٰ محسن شیخانی کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال تقریباً 65 ہزار افراد بینکوں سے گھر بنانے کے لیے قرض حاصل کر سکیں گے، تعمیراتی شعبہ فعال ہوگا تو اس سے منسلک تقریباً 70 دیگر صنعتوں میں بھی سرگرمیاں بڑھیں گی۔
محسن شیخانی نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے باعث رواں مالی سال تعمیراتی شعبے میں بہتری کی توقع ہے ، ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے حکومت کی جانب سے مالی سہولت کا اعلان خوش آئند ہے، جبکہ بینکوں کی فنانسنگ سے ہاؤسنگ انڈسٹری میں نئی سرگرمیاں شروع ہونے کا امکان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مالی سہولت دستیاب ہونے سے تعمیراتی شعبے میں تیزی آ سکتی ہے، تاہم سیمنٹ اور دیگر تعمیراتی سامان کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اب بھی ہاؤسنگ سیکٹر کی رفتار کو متاثر کر رہی ہیں۔ اس شعبے کی مکمل بحالی کے لیے مسلسل اور مستقل پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
محسن شیخانی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ ایک کروڑ روپے تک کے ہاؤسنگ قرض سے پہلے مرحلے میں 65 ہزار افراد مستفید ہو سکتے ہیں، ہاؤسنگ فنانس اسکیم کے لیے مستقبل میں مزید فنڈز مختص کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اپنا گھر بنانے کے قابل ہو سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماہانہ ایک لاکھ 50 ہزار روپے آمدن رکھنے والے افراد کے لیے بھی ہاؤسنگ فنانس ایک اہم سہولت ثابت ہو سکتی ہے تاہم تعمیراتی لاگت میں اضافے کے باعث گھروں کی تعمیر مہنگی ہو رہی ہے، اس لیے تعمیراتی اخراجات کم کرنا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر قرض کی سہولت، ٹیکس میں ریلیف اور تعمیراتی شعبے کے لیے مستقل پالیسی برقرار رہی تو ہاؤسنگ سیکٹر نہ صرف بحال ہو سکتا ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتا ہے۔