جماعت اسلامی کا 7 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان، پیٹرول 225 روپے پر لانے کا مطالبہ

جماعت اسلامی کا 7 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان، پیٹرول 225 روپے پر لانے کا مطالبہ

جماعت اسلامی پاکستان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف جمعہ 7 اگست 2026 کو ملک گیر احتجاج اور شاہراہوں پر دھرنوں کا اعلان کر دیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ حکومت کو پیٹرول کی قیمت میں کم از کم 150 روپے کمی کر کے اسے 225 روپے فی لیٹر پر لانا ہوگا۔ جمعہ کی نماز کے بعد شام 4 بجے شہری اپنی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بند کر کے سڑکوں پر نکلیں گے۔

احتجاج کا وقت اور طریقہ کار

جماعت اسلامی کے اعلان کے مطابق 7 اگست، نمازجمعہ کے بعد، شام تقریباً 4 بجے شہری اور نوجوان اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے ساتھ اہم شاہراہوں کا رخ کریں گے اور پرامن انداز میں سڑکیں بند کر دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:جماعت اسلامی کا 8 فروری کے انتخابات پر الیکشن کمیشن آفس کے سامنے احتجاج کا فیصلہ

تنظیم نے واضح کیا ہے کہ احتجاج کے دوران ایمبولینسز اور دیگر ایمرجنسی خدمات کی گاڑیوں کی آمدورفت بلا رکاوٹ جاری رہے گی، تاکہ کسی کو ہنگامی صورتحال میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

احتجاج کے مرکزی مطالبات میں پیٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ، فیول کی قیمتوں میں فوری کمی، بڑھتی مہنگائی پر قابو پانا اور آئی پی پیز کے معاہدوں پر ازسرِنو نظرثانی شامل ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن کا عوام کے لیے پیغام

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے عوام سے 7 اگست کے احتجاج میں بھرپور شرکت کی اپیل کی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی اشیا پر بھی بھاری ٹیکس عائد کر رکھے ہیں، جن کا براہ راست بوجھ عام شہری کے کندھوں پر آ رہا ہے۔

ان کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران روزمرہ استعمال کی 27 اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ پیٹرول پر عائد ٹیکسوں کا سب سے زیادہ بوجھ عام موٹر سائیکل سوار اور کم آمدنی والے طبقات برداشت کر رہے ہیں، جبکہ حکمران طبقہ عوام پر مہنگائی کا دباؤ مسلسل بڑھاتا جا رہا ہے۔

ان کا دعویٰ تھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران حکومت نے صرف لیوی کی مد میں تقریباً 1,900 ارب روپے وصول کیے، جبکہ عام آدمی باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہونے کے باوجود مختلف بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے حکومتی خزانے میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔

اشرافیہ کو استثنیٰ، عوام پر بوجھ کا الزام

جماعت اسلامی کے امیر نے حکومتی معاشی پالیسیوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اشرافیہ کی مراعات بدستور برقرار ہیں جبکہ مہنگائی اور ٹیکسوں کا سارا بوجھ غریب عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ جس طرح عوام نے ماضی میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف منظم احتجاج کیا تھا، اسی طرز پر اب بھی سڑکوں پر نکل کر اپنی آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں:جماعت اسلامی نے فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کیلئے ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی

ان کے بقول اگر عوام نے بروقت احتجاج نہ کیا تو مستقبل میں مزید لیوی اور ٹیکس عائد کیے جانے کا خدشہ موجود ہے۔

پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عوامی حلقوں میں تنقید کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً عائد کی جانے والی پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں نے مہنگائی کی شرح کو مزید بڑھایا ہے، جس کے اثرات نقل و حمل کے کرایوں سے لے کر روزمرہ اشیائے خور و نوش تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔

اس سے قبل بجلی کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف بھی ملک بھر میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں نے احتجاجی تحریکیں چلائی تھیں۔

جماعت اسلامی اس سے پہلے بھی مہنگائی کے خلاف عوامی سطح پر متحرک رہی ہے اور اب پیٹرولیم لیوی کے معاملے کو اپنی تازہ مہم کا مرکز بنا چکی ہے۔

کیا یہ احتجاج حکومت پر دباؤ بڑھا پائے گا؟

جماعت اسلامی کا یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عام آدمی مہنگائی کے ہاتھوں پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے، اس لیے یہ تحریک عوامی سطح پر پذیرائی حاصل کر سکتی ہے۔

پیٹرول کی قیمت کو 225 روپے تک لانے کا مطالبہ اگرچہ بظاہر جارحانہ معلوم ہوتا ہے، مگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے تناظر میں یہ دلیل مکمل طور پر بے بنیاد بھی نہیں لگتی۔

یہ بھی پڑھیں:جماعت اسلامی کا پھر ملک گیر احتجاج کا اعلان

تاہم سوال یہ ہے کہ کیا محض ایک روزہ احتجاج اور شاہراہوں کی بندش حکومت کو اپنی معاشی پالیسی پر نظرثانی کے لیے مجبور کر سکے گی؟ ماضی میں اسی نوعیت کے احتجاجی مظاہروں نے عارضی طور پر توجہ ضرور حاصل کی، مگر ٹھوس پالیسی تبدیلیوں کی مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔

اگر جماعت اسلامی اس تحریک کو تسلسل کے ساتھ آگے نہ بڑھا سکی، تو یہ محض ایک علامتی احتجاج بن کر رہ جانے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

دوسری جانب حکومت کے لیے یہ صورتحال ایک امتحان ہے، کیونکہ عوامی غم و غصہ بڑھتا ہی جا رہا ہے اور اگر بروقت ریلیف نہ دیا گیا تو مستقبل میں مزید بڑے پیمانے کی تحریکوں کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔

Related Articles