Skip to content
فرمائشی گرفتاریوں،حکومتی تیاریوں کے بعد پی ٹی آئی نے بڑا یو ٹرن لے لیا، مذاکرات کا فیصلہ
Home - آزاد سیاست - فرمائشی گرفتاریوں،حکومتی تیاریوں کے بعد پی ٹی آئی نے بڑا یو ٹرن لے لیا، مذاکرات کا فیصلہ
فرمائشی گرفتاریوں ، عوام کی جانب سے مسترد کیے جانے اور اسلام آباد میں حکومتی تیاریوں کے بعد تحریک انصاف نے بڑا یو ٹرن لے لیا۔
پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف سے سیاسی رہنماؤں پر مشتمل کمیٹی بنانے کی اپیل کر دی ۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملک کو موجودہ سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے بامعنی مذاکرات کی ضرورت ہے۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کی سیاسی کمیٹیاں بیٹھیں تو معاملات کا حل نکل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت آج یا جب بھی مذاکرات کے لیے بیٹھنا چاہے، پی ٹی آئی کی جانب سے بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔
راجا ناصر عباس کا کہنا تھا کہ ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے بامعنی مذاکرات کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سیاسی رہنماؤں پر مشتمل ٹیم تشکیل دیں۔
راجا ناصر عباس نے کہا کہ سیاسی معاملات کا حل سیاسی طریقے سے ہی نکالا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں ایسے افراد کو شامل کیا جانا چاہیے جو بااختیار ہوں اور فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ بااختیار اور فیصلہ کرنے والے لوگ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں تو مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے حکومت پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے کے بجائے سیاسی رابطوں کا راستہ اختیار کیا جائے۔
بیرسٹر گوہر کے وفاقی سطح پر رابطوں کا دعویٰ
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی سطح پر رابطوں کا دعویٰ کیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات سے متعلقہ لوگوں کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق ان رابطوں کے دوران گزشتہ واقعات سے متعلق پی ٹی آئی کا پیغام بھی متعلقہ افراد تک پہنچا دیا گیا ہے۔
انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن سے موجودہ صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔
گرفتاریوں سے گریز
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ گرفتاریوں سے صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے، اس لیے موجودہ حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے حکومت اور متعلقہ حلقوں سے سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
انہوں نے کہا موجودہ صورتحال میں سیاسی رابطوں کا راستہ کھلا رکھنا ضروری ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی اسلام آباد پر چڑھائی کرنے نہیں جارہی۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی نے پارلیمنٹ، سینیٹ اور دیگر سیاسی فورمز پر اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔
پی ٹی آئی نے ہر جگہ اپنی آواز اٹھائی مگر اس پر مناسب توجہ نہیں دی گئی۔
بیرسٹر گوہر نے سوال اٹھایا کہ اگر سیاسی فورمز پر بات نہ سنی جائے تو سیاسی جماعت احتجاج کے علاوہ کیا راستہ اختیار کرے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی آمادگی اور سیاسی کمیٹی بنانے کے مطالبے کے بعد اب حکومتی ردعمل اہم ہوگیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے مذاکرات کے لیے بااختیار سیاسی نمائندوں کو شامل کرنے پر زور دیا ہے۔
