پاکستان پہلے ہی معاشی دباؤ، مہنگائی، توانائی کے بحران اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال سے گزر رہا ہے، ایسے میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی اور رکن خیبر پختونخوا اسمبلی فضل الٰہی کی جانب سے 27 ستمبر کو تربیلا اور ورسک ڈیم سے بجلی کی سپلائی بند کرنے کی دھمکی نے ملکی سیاست میں ایک انتہائی سنگین بحث چھیڑ دی ہے۔
دونوں ارکان کی جانب سے بجلی کی سپلائی روکنے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تربیلا اور ورسک ملک کے بجلی کے بنیادی ڈھانچے کے اہم حصے ہیں۔
اس اعلان نے یہ سوال کھڑا کردیا ہے کہ سیاسی مطالبات منوانے کے لیے کیا اب قومی توانائی کے نظام کو بھی دباؤ کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے گا؟
ملک کو اندھیرے میں دھکیلنے کی دھمکی
اقبال آفریدی اور فضل الٰہی کی جانب سے 27 ستمبر کو تربیلا اور ورسک سے بجلی کی فراہمی بند کرنے کی دھمکی کا سب سے بڑا اثر عام پاکستانی پر پڑ سکتا ہے۔
بجلی بند ہونے کا مطلب صرف گھروں کی روشنیاں بند ہونا نہیں، بلکہ کاروبار، صنعت، دکانیں،ہسپتال، تعلیمی ادارے، چھوٹے کارخانے اور روزگار سے وابستہ لاکھوں افراد بھی اس کے اثرات کی زد میں آ سکتے ہیں۔
ایک ایسے ملک میں جہاں عوام پہلے ہی بھاری بجلی بلوں اور مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں، وہاں مزید بجلی بند کرنے کی دھمکی نے عوامی مشکلات کے حوالے سے بھی شدید سوالات پیدا کردیے ہیں۔
سیاسی اختلاف یا وفاق سے محاذ آرائی؟
جمہوری نظام میں حکومت سے اختلاف، احتجاج اور سخت سیاسی مزاحمت ہر سیاسی جماعت کا حق ہے، لیکن قومی بجلی کے نظام کو بند کرنے کی دھمکی معمولی سیاسی بیان نہیں بغاوت ہے ایسے میں اب کے پی میں گورنر راج لگانےکا مطالبہ زور پکڑ گیا۔
تربیلا اور ورسک سے بجلی کی سپلائی روکنے کا اعلان براہ راست وفاقی نظام اور ملک کے توانائی کے ڈھانچے کو متاثر کرنے کی بات ہے، یہی وجہ ہے کہ اس اقدام کو وفاق سے محاذ آرائی اور ریاستی نظام کے خلاف انتہائی خطرناک سیاسی دباؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بغاوت جیسے سوالات کیوں؟
اگر کسی صوبے کے منتخب نمائندے ملک کے مختلف حصوں کو بجلی فراہم کرنے والے بڑے ڈیموں سے سپلائی روکنے کی دھمکی دیں تو اس کے نتیجے میں صرف سیاسی اختلاف نہیں بلکہ وفاق اور صوبے کے تعلقات پر بھی سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
نقصان کس کا ہوگا؟
اگر بجلی کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو نقصان کسی وفاقی وزیر، کسی پارٹی سربراہ یا کسی سیاسی رہنما کی جیب سے نہیں نکلے گا بلکہ اس کا بوجھ عام شہری اور کاروباری طبقہ اٹھائے گا۔
کارخانے بند ہوں گے تو مزدور متاثر ہوں گے، دکانیں اور کاروبار متاثر ہوں گے تو روزانہ کی آمدن کم ہوگی اور گھریلو صارفین کو بجلی کی بندش کے ساتھ ساتھ ممکنہ طور پر اضافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
عالمی معاشی حالات بھی نظر انداز؟
دنیا اس وقت معاشی غیر یقینی صورتحال سے گزر رہی ہے اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملکوں کو متاثر کرتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب عام آدمی مہنگائی سے پہلے ہی پریشان ہے، کاروباری طبقہ اخراجات کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ملک کو معاشی استحکام کی ضرورت ہے تو قومی توانائی کے نظام کو بند کرنے کی دھمکی آخر کس کے مفاد میں ہے؟
عوامی نمائندے یا عوام کے لیے مزید مشکلات؟
اقبال آفریدی اور فضل الٰہی دونوں منتخب ایوانوں کے ارکان ہیں، عوامی نمائندوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے حلقوں اور عوام کے مسائل ایوان میں اٹھائیں، حکومت پر سیاسی دباؤ ڈالیں اور آئینی و پارلیمانی راستے اختیار کریں۔
لیکن اگر سیاسی مطالبات کے لیے ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے جس کا براہ راست اثر ملک بھر کے بجلی صارفین پر پڑے تو یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ اس سیاست کی قیمت آخر عام پاکستانی کیوں ادا کرے؟
یہ معاملہ صرف دو سیاسی رہنماؤں کے ایک بیان تک محدود نہیں بلکہ اس سے ایک بڑا سوال وابستہ ہے: کیا سیاسی اختلافات کی شدت اس حد تک پہنچ سکتی ہے کہ قومی وسائل اور عوامی سہولیات کو بھی سیاسی جنگ کا حصہ بنا دیا جائے؟اگر ایسا راستہ اختیار کیا گیا تو اس کا سب سے بڑا نقصان سیاسی مخالفین کو نہیں بلکہ پاکستان کے عام شہری کو ہوگااور یہ بغاوت ہوگی ۔