پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ ایک ساتھ ہوں تو فوجی طاقت کتنی بنتی ہے؟ حیران کن اعدادوشمار

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ ایک ساتھ ہوں تو فوجی طاقت کتنی بنتی ہے؟ حیران کن اعدادوشمار

پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کے بعد عالمی سطح پر تینوں ممالک کی مشترکہ سیاسی معاشی اور دفاعی طاقت پر بھی تبصرے جاری ہیں۔ اسی تناظر میں ایک ترک صحافی کی جانب سے تینوں ممالک کی عسکری صلاحیتوں اور معاشی حجم کا اعداد و شمار کی بنیاد پر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

ترک صحافی سیتینر سیتین کے مطابق تین ملکی دفاعی شراکت داری میں شامل ممالک اپنی الگ الگ جغرافیائی سیاسی اور عسکری اہمیت رکھتے ہیں تاہم مشترکہ طور پر دیکھا جائے تو ان کی مجموعی طاقت خطے میں ایک نمایاں سکیورٹی فریم ورک تشکیل دیتی ہے۔

پاکستان واحد جوہری طاقت

پیش کیے گئے جائزے کے مطابق پاکستان اس اتحاد میں شامل واحد جوہری طاقت ہے اور اس کے پاس تقریباً 170 جوہری وار ہیڈز موجود ہیں۔ پاکستان کی جوہری صلاحیت کو خطے میں اس کی اسٹریٹجک دفاعی حیثیت کا ایک اہم عنصر قرار دیا جاتا ہے۔

سعودی عرب اور ترکیہ کی سیاسی و اسٹریٹجک اہمیت

سیاسی اور عالمی اثرورسوخ کے اعتبار سے سعودی عرب اور ترکیہ بھی اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب G20 کا رکن ہونے کے ساتھ عالمی توانائی کی سیاست میں اہم کردار رکھتا ہے اور اوپیک میں بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب ترکیہ بھی G20 کا رکن ہے اور نیٹو کا اہم رکن ہونے کے ساتھ اتحاد کی بڑی فوجی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے۔ ترکیہ کی جغرافیائی پوزیشن بھی اسے یورپ، مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے درمیان ایک اہم اسٹریٹجک ملک بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:موبائل فون پر ٹیکس کا بوجھ کم ہوگا؟ نئی تفصیلات سامنے آگئیں

تینوں ممالک کی مجموعی معاشی طاقت

جائزے کے مطابق پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کی مجموعی معیشت کا حجم تقریباً 3 ٹریلین ڈالر بنتا ہے۔ تینوں ممالک کی اقتصادی صلاحیتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں تاہم مشترکہ طور پر یہ حجم انہیں خطے میں ایک اہم معاشی بلاک بناتا ہے۔

سعودی عرب توانائی اور سرمایہ کاری کے اعتبار سے اہم عالمی کردار رکھتا ہے ترکیہ کی صنعتی اور دفاعی پیداوار نمایاں ہے جبکہ پاکستان خطے میں ایک بڑی آبادی، وسیع منڈی اور اسٹریٹجک جغرافیائی محل وقوع کا حامل ملک ہے۔

ایک ہزار لڑاکا طیارے

دفاعی صلاحیتوں کے حوالے سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 1,000 لڑاکا طیارے ہیں۔

ان طیاروں میں پاکستان کے جدید جنگی طیارے سعودی عرب کی جدید فضائی قوت اور ترکیہ کے جنگی و مقامی طور پر تیار کیے جانے والے فضائی پلیٹ فارمز شامل ہیں۔

20 لاکھ فوجی اہلکار

تینوں ممالک کی افواج میں مجموعی طور پر تقریباً 20 لاکھ یعنی 2 ملین اہلکار موجود ہونے کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے اس طرح افرادی قوت کے اعتبار سے بھی یہ شراکت داری ایک بڑی عسکری طاقت بن جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایزی پیسہ صارفین کے لیے اہم الرٹ

7 ہزار ٹینک

زمینی جنگی صلاحیت کے حوالے سے بھی تینوں ممالک کے پاس بڑی تعداد میں بھاری جنگی سازوسامان موجود ہے۔ پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 7,000 ٹینک ہیں۔

90 ہزار بکتر بند گاڑیاں

اسی جائزے میں تینوں ممالک کی مجموعی بکتر بند گاڑیوں کی تعداد تقریباً 90,000 بتائی گئی ہے جو زمینی دفاع اور فوجی نقل و حرکت کی بڑی صلاحیت کی نشاندہی کرتی ہے۔

34 آبدوزیں اور بحری طاقت

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 34 آبدوزیں بھی موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بحری صلاحیت کے حوالے سے پاکستان اور ترکیہ کی بحری افواج خاص طور پر اہم کردار رکھتی ہیں۔

جائزے کے مطابق پاکستان اور ترکیہ کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 500 جنگی اور بحری پلیٹ فارمز موجود ہیں جو تینوں ممالک کے دفاعی تعاون میں بحری سلامتی کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

40 لاکھ مربع کلومیٹر رقبہ

تینوں ممالک کا مجموعی جغرافیائی رقبہ تقریباً 40 لاکھ مربع کلومیٹر بتایا گیا ہے پاکستان جنوبی ایشیا، سعودی عرب خلیج اور مشرق وسطیٰ جبکہ ترکیہ یورپ اور ایشیا کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث جغرافیائی اعتبار سے بھی ایک منفرد دفاعی مثلث تشکیل دیتے ہیں۔

F-35 طیاروں سے مستقبل کی صلاحیت

جائزے میں مستقبل کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر سعودی عرب اور ترکیہ کو امریکا سے F-35 جنگی طیارے حاصل ہوتے ہیں تو تینوں ممالک کی فضائی اور دفاعی صلاحیت مزید بڑھ سکتی ہے۔

تاہم F-35 سے متعلق کسی بھی مستقبل کی فراہمی کو موجودہ دفاعی صلاحیت میں شامل کرنے سے پہلے متعلقہ معاہدوں، منظوریوں اور ترسیل کی حتمی صورتحال کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔

دفاعی معاہدے کے بعد نئی بحث

مکہ دفاعی معاہدے کے بعد تینوں ممالک کی مشترکہ طاقت کا یہ جائزہ اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت سعودی عرب کی اقتصادی و توانائی کی طاقت اور ترکیہ کی دفاعی ٹیکنالوجی و صنعتی استعداد ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق کسی دفاعی اتحاد کی حقیقی طاقت صرف ہتھیاروں فوجیوں یا ٹینکوں کی تعداد سے متعین نہیں ہوتی بلکہ اس میں مشترکہ کمانڈ انٹیلی جنس تعاون دفاعی صنعت فوجی تربیت لاجسٹکس ٹیکنالوجی سیاسی عزم اور عملی انٹرآپریبلٹی بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

اسی لیے مکہ معاہدے کے بعد اصل توجہ اس بات پر ہوگی کہ تینوں ممالک اپنی موجودہ دفاعی صلاحیتوں کو کس حد تک مشترکہ حکمت عملی دفاعی صنعت اور عملی تعاون میں تبدیل کرتے ہیں

Qaisar Mirza
editor

Related Articles